Bharat Express DD Free Dish

India bloc

کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے ’انڈیا‘ بلاک کے اجلاس کو اپوزیشن کی یکجہتی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اتحاد میں شامل جماعتیں مرکزی حکومت کے خلاف اپنے تعاون اور باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

آج دن میں دہلی میں انڈیا بلاک کے سرکردہ لیڈران کے اجلاس میں جسٹس ریڈی کو مشترکہ امیدوار کے طور پر باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا۔

رادھاکرشنن کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے این ڈی اے کا امیدوار نامزد کیا جاچکا ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی بورڈ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ طور پر لیا گیا۔

پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ اپوزیشن نے SIR کے خلاف نعرے بازی کی، جس کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

الیکشن کمیشن نے ملک کے نئے نائب صدر کے انتخاب کے لیے انتخابی عمل شروع کر دیا ہے۔ کمیشن نے اس اطلاع سے متعلق ایک پریس نوٹ جاری کیا ہے۔ نوٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ ’’وزارت داخلہ سے اطلاع ملی ہے کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب اس …

پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو ہنگامہ آرائی اور ایوان میں اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے بولنے کے مطالبات کے درمیان 22 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پہلے بھی کانگریس نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے معاملے کو اٹھاتی رہے گی، جہاں وہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد میں اقتدار میں ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس میٹنگ ان اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جو وہ اجلاس کے دوران اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ، آپریشن سندور اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ تبصرے وغیرہ شامل ہیں۔

اویسی کی پارٹی نے پہلے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کو خط لکھ کر اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

اس اجلاس میں کانگریس کی بہار یونٹ کے انچارج کرشنا الوارو، وکاس شیل انسان پارٹی کے صدر مکیش ساہنی اور تین بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی۔