کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: کانگریس صدرملیکارجن کھڑگے نے دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبرکوہونے والی ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہا ریلی میں شرکت کے لیے لوگوں سے اپیل کی ہے۔ ان کے تازہ بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ انڈیا اتحاد کی اس ریلی کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ دہلی کے تاجروں نے تہواروں کے موسم میں کاروبارمتاثرہونے کے خدشے کے پیش نظرریلی کی تاریخ آگے بڑھانے کی اپیل کی تھی۔ کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراپنی پوسٹ میں مودی حکومت اورالیکشن کمیشن کوووٹ چوری اورووٹرلسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پرنشانہ بنایا۔
اس سے پہلے چیمبرآف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل نے تاجروں کی جانب سے کھڑگے کوخط لکھ کرریلی کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ کھڑگے نے اس معاملے پرانڈیا اتحاد کی میٹنگ میں بات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اب یکم نومبرکوہی ریلی منعقد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ملیکارجن کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں الزام لگایا کہ ووٹ چوری کے کئی انکشافات کے باوجود مودی حکومت چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمارکوبچانے کے لئے ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ ان کے مطابق، اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئرکی معلومات حقِ اطلاعات (آرٹی آئی) کے تحت مانگی گئی تھیں، لیکن الیکشن کمیشن نے ’ٹریڈ سیکریٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکارکردیا۔ کھڑگے نے اترپردیش میں ووٹرلسٹ سے متعلق معاملات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ فارم 6 کی 16.18 لاکھ درخواستوں کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیلی بھیت میں 10,470 ووٹروں کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق، اس کے بعد ریاست بھرمیں فارم 6، 7 اور8 کی جانچ کے احکامات دینے پڑے۔
انڈیا اتحاد کے تین اہم مطالبات کیا ہیں؟
ملیکارجن کھڑگے نے انڈیا الائنس کے مطالبات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کے حقوق اورانتخابی عمل کی شفافیت کویقینی بنانا ضروری ہے۔ اتحاد کے تین اہم مطالبات یہ ہیں:
چیف الیکشن کمشنرکا استعفیٰ: گیانیش کماراستعفیٰ دیں اورانہیں تحفظ فراہم کرنے والے 2023 کے قانون کومنسوخ کیا جائے۔
ایس آئی آرپر روک: اسپیشل انٹینسیو ریویژن کا عمل فوری طورپرروکا جائے اومبینہ طورپرغیرقانونی طریقے سے ووٹرلسٹ سے ہٹائے گئے نام بحال کیے جائیں۔
بیلٹ پیپر سے انتخابات: تمام انتخابات بیلٹ پیپرکے ذریعے کرائے جائیں۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ آئین اور جمہوریت کو بچانے کی عوامی جدوجہد ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام بیدار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ یکم نومبرکودہلی پہنچیں اوررام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مارچ اورمہا ریلی میں شرکت کریں۔
سی ٹی آئی نے ریلی کی تاریخ بدلنے کی اپیل کیوں کی تھی؟
دہلی کے تاجروں کی تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس صدر کو خط لکھ کر ریلی کی تاریخ آگے بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ تہواروں کے موسم میں دہلی کے بازاروں میں کاروبار اپنے عروج پر ہوتا ہے اور اس دوران کسی بڑی ریلی سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ سی ٹی آئی کے مطابق، صرف دھن تیرس کے موقع پر دہلی میں تقریباً 25,000 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس میں سونے چاندی، زیورات، الیکٹرانکس، کپڑوں اور آٹوموبائل سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ سال کے سب سے اہم کاروباری مواقع میں سے ایک ہے اور اس دوران آمد و رفت میں رکاوٹ تاجروں کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اکتوبر میں بھی کاروبار کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ
سی ٹی آئی نے اپنے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ اکتوبرکے آغاز میں وسطی دہلی میں ٹریفک کا رخ تبدیل کیے جانے کی وجہ سے خوردہ اورتھوک تاجروں کوتقریباً 3,000 کروڑروپئے کا نقصان ہوچکا ہے۔ تنظیم نے رام لیلا میدان کے آس پاس واقع اہم بازاروں کا ذکرکرتے ہوئے کہا تھا کہ چاندنی چوک، صدربازار، کھاری باولی، بھاگیرتھ پیلس، چاوڑی بازاراورقرول باغ سمیت دہلی کے تقریباً 20 بڑے تھوک اورخوردہ بازارمیدان کے پانچ کلومیٹرکے دائرے میں آتے ہیں۔ سی ٹی آئی کے مطابق، ریلی کے دوران سیکورٹی بیریکیڈنگ، راستوں میں تبدیلی اورمیٹروخدمات پرممکنہ پابندیوں کے باعث خریداروں کوبازاروں تک پہنچنے میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ اس کا اثرتہواروں کے موسم میں ہونے والی خریداری پرپڑسکتا ہے۔ تاہم، تاجروں کی جانب سے تاریخ تبدیل کرنے کی اپیل کے باوجود ملیکارجن کھڑگے نے یکم نومبرکوہی ریلی میں شرکت کے لیے عوام سے اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


