Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے انڈیا اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ سوامی پرساد موریہ نے اکھلیش یادو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی کو ملک کا ہیرو قرار دیا اور ریلی میں 60 فیصد سے زیادہ بھیڑ کانگریس کے حامیوں کی ہونے کا دعویٰ کیا۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آواز دبانے میں گیانیش کمار کا کردار رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ رات کو سکون سے سو نہیں پا رہے ہوں گے۔

راہل گاندھی نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی کے اہم تجارتی علاقے کناٹ پلیس میں کئی دکانیں زبردستی بند کرائی گئیں، جس سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

راجدھانی دہلی کا تاریخی رام لیلا میدان ایک بار پھر بڑی سیاسی سرگرمی کا مرکز بن گیا۔ یکم نومبر کو ’انڈیا‘ اتحاد کی جانب سے منعقدہ مہاریلی میں اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بنایا۔ اس دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی نظام میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر بھی سخت حملے کیے گئے۔

دوسری جانب بی جے پی نے بھی مغربی دہلی میں جوابی مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کی یاد میں نکالا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ فسادات کی برسی کے موقع پر سیاسی ریلی منعقد کر رہی ہے۔

 ریلی میں شرکت کرنے والوں کو صرف مقررہ دروازوں سے داخلے کی اجازت ہوگی، جہاں میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے ان کی تلاشی لی جائے گی۔ حکام کا اندازہ ہے کہ رام لیلا میدان میں 45 ہزار سے 50 ہزار افراد کے آنے کی گنجائش ہے، لیکن کرسیاں لگانے، حفاظتی حصار بنانے اور آمد و رفت کے راستے مختص کرنے کے بعد تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار افراد کے جمع ہونے کی توقع ہے۔بھیڑ کو بے قابو ہونے اور بھگدڑ جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے میدان میں اضافی جگہ بھی خالی رکھی جائے گی۔ ا

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے علامتی ’عوامی مواخذے‘ کی تجویز منظور کیے جانے کے اگلے روز، اتوار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں اتحاد کی ایک بڑی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے۔

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ آئین اور جمہوریت کو بچانے کی عوامی جدوجہد ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام بیدار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ یکم نومبرکو دہلی پہنچیں او رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مارچ اورمہا ریلی میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

اپنی پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے ساتھی اس پروگرام کی زور و شور سے تشہیر کر رہے ہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔راہل گاندھی نے لکھا، ’’بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کا دل سے شکریہ، جو اس پروگرام کی اتنے جوش و خروش سے تشہیر کر رہے ہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا، ہریانہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا دعویٰ