Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

شوسینا (یوبی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ انڈیا الائنس میں پھوٹ پڑی ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم کے کو صبر سے کام لینا چاہئے تھا۔

 لوک سبھا میں ڈی ایم کے اب کانگریس کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔ تمل ناڈو میں کانگریس کے ٹی وی کے سے اتحاد کے بعد دونوں پارٹیوں کے پرانے تعلقات ختم ہوگئے ہیں۔ ڈی ایم کے نے لوک سبھا سکریٹریٹ سے الگ بیٹھنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے منظورکرلیا گیا ہے۔ وہیں پارٹی نے انڈیا الائنس کی میٹنگ میں بھی شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مغربی بنگال میں بی جے پی نے شوبھندوادھیکاری کونئے وزیراعلیٰ اور اگنیمترا پال اور نسیتھ پرمانک کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ امت شاہ نے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست میں تشدد پرتنقید کی اوربنگال میں ترقی کے لئے بی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔

سیاسی حلقوں میں اس خط کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ڈی ایم کے اور کانگریس کئی برسوں سے قومی سیاست اور تمل ناڈو کی انتخابی حکمت عملی میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں مختلف مواقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے اختلافات نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بارے میں سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں 100 سیٹوں پر ووٹوں میں دھاندلی اورای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا قتل‘‘ قراردیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل پرکہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی سازش پارلیمنٹ میں ناکام ہوگئی۔ لوک سبھا میں جو ہوا وہ آئین، ملک اور اپوزیشن اتحاد کی جیت تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایک طرف جہاں لوک سبھا کی مدت 5 سال کی ہوتی ہے اور اسے تحلیل بھی کیا جاسکتا ہے جبکہ راجیہ سبھا ایک مستقل ایوان ہے، لہٰذا یہ کبھی کام کرنا بند نہیں کرتا ہے۔ راجیہ سبھا کے ہرایک رکن کی مدت 6 سال کی ہوتی ہے، لیکن سبھی اراکین کی مدت ایک ہی وقت پرشروع یا ختم نہیں ہوتی ہے۔

بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کی شروعات 9 مارچ سے ہونے جا رہی ہے۔ اس دن لوک سبھا اسپیکراوم برلا کے خلاف اپوزیشن کے ذریعہ دیئے گئے عہدہ سے ہٹانے کی تجویز پربحث ہوگی۔ اس تجویزکے ذریعہ اپوزیشن نے اوم برلا پرایوان کی کارروائی کے دوران کھل کر بھید بھاو کرنے کا الزام لگایا ہے۔

لوک سبھا میں اسپیکراوم برلا پرکاغذ پھینکنے والے اراکین پارلیمنٹ پورے سیشن کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ اس اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکرکی کرسی کے پاس جاکر پیپر پھینکے تھے۔ اس کے بعد اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کیا۔