Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

 نیٹ امتحان پیپرلیک سے متعلق پورے ملک میں ہو رہے احتجاج سے حکومت بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔ اسی ضمن میں وزارت تعلیم آج رات 8 بجے بڑا اعلان کرنے والی ہے۔ اس سے طلبا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

نیٹ پیپرلیک ہونے پردہلی میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دریں اثنا، راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرانڈیا الائنس کی میٹنگ ہوئی اورتمام شریک لیڈران پُرامن طریقے سے تیس جنوری مارگ پرگاندھی اسمرتی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی راہل گاندھی کی رہائش گاہ پرپہنچیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران، پیرکو اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے نیٹ پیپرلیک ہونے اور رام مندر چڑھاوا چوری کے مسائل پر لوک سبھا میں ہنگامہ کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اس دوران راجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے طلبا پرلاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھایا۔

جھارکھنڈ اسمبلی میں راجیہ سبھا الیکشن کے لئے ایک رکن کو 28 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ این ڈی اے کے پاس 24 ووٹ تھے۔ حالانکہ پریمل ناتھوانی کی جیت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کم ازکم 4 اراکین اسمبلی نے کراس ووٹنگ کی ہے۔ اسمبلی میں جے ایم ایم کے 34، کانگریس کے 16، آرجے ڈی کے 4، سی پی آئی ایم ایل کے 2، بی جے پی کے 21، اے جے ایس یو کے ایک رکن اسمبلی ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 سے رکن پارلیمان ہیں اور کانگریس کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاکھوں کانگریسی کارکنوں کو جانتے ہیں جو ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اتحاد کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اشتراک ایک فطری سیاسی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے دونوں جماعتیں مل کر جدوجہد کریں گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔

دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اتحاد کے رہنما اب ہر دو ماہ بعد باقاعدہ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی اگلی میٹنگ حیدرآباد میں ہوگی۔پانچ نکات پر اتفاق ہوا۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے دو راجیہ سبھا اراکین استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ان ناموں میں شکھیندو شیکھر رائے کے علاوہ اداکارہ اور حال ہی میں راجیہ سبھا پہنچی کوئل ملک کا نام بھی شامل تھا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔

جیسے جیسے ملک میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے قومی دارالحکومت نئی دہلی کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں آنے والی اہم حکمتِ عملی میٹنگز پر مرکوز ہیں۔ اسی سلسلے میں 8 جون کو کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی …