Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

چیف آف آرمی اسٹاف (سی ڈی ایس) اُپیندر دویویدی کے بیان پر طارق انور نے کہا کہ بھارت پوری فلم دیکھنا چاہتا تھا، لیکن درمیان میں اس فلم کو وزیر اعظم یا حکومتِ ہند کی جانب سے روک دیا گیا۔ اُس وقت جو ماحول تھا، ہمارے جوان جس طرح آگے بڑھ رہے تھے اور ان کا حوصلہ بلند تھا، یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ہم پی او کے کو واپس لے سکتے تھے۔

بہار کے انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے بعد کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابتدائی جائزے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پارٹی کی سینئر قیادت—راہل گاندھی اور ملییکارجن کھڑگے—نے لالُو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے فون پر بات چیت کی۔

لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم بہار اسمبلی انتخابات میں ریاست کی 32 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور اویسی اپنی پارٹی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔

وِکاس شیل انسان پارٹی (VIP) کے سربراہ مکیش سہنی نے کہا کہ عظیم اتحاد تھوڑا سا غیر صحت مند ہے، کیونکہ سارے ڈاکٹر دہلی میں موجود ہیں، اسی لیے وہ وہیں جا رہے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے تمام پارٹیاں اور اتحاد انتخابی میدان میں اپنے امیدوار اتارنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اسی درمیان، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 32 نشستوں کی اپنی پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس انتخابات میں 100 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔

پوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں گے لیکن این ڈی اے نے اسے اپنی جیت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے اپوزیشن کی کمزوری قرار دیا۔ اس واقعہ نے ہندوستانی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ راز آنے والے دنوں میں کھلنا باقی ہے۔

ذرائع کے مطابق، جانکاری سامنے آئی ہے کہ 15 سے 20 نومبرکے درمیان ووٹوں کی گنتی ممکن ہے۔ پورا انتخابی عمل 22 نومبرکی ڈیڈ لائن سے پہلے پوری کرلی جائے گی۔

کبھی کبھی اپوزیشن کو اہم مسائل پر احتجاج کرنا پڑتا ہے، چاہے حکومت بحث نہ چاہے۔ آپریشن سندور پر بحث کے دوران، تمام تقریروں اور مباحث کے بعد حکومت دفاعی پوزیشن میں آ گئی۔ وہ کچھ سوالات کے جوابات نہ دے سکی۔

انڈیا الائنس نے سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کو نائب صدر عہدے کا امیدوار بنائے جانے کا اعلان کیا۔ این ڈی اے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کا مقابلہ تلنگانہ سے آنے والے جسٹس بی سدرشن ریڈی سے ہوگا۔

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔