Bharat Express DD Free Dish

INDIA ALLIANCE

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہورہا ہے۔ وزیر اعظم مودی سیشن سے پہلے ملک کو پیغام دیں گے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے مرکزی حکومت کو گھیرنے کے لیے 8 ایشوزکی فہرست تیارکی ہے۔ ایسے میں پہلے دن ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ اپوزیشن پارٹی سخت رویہ دکھا سکتی ہے۔

اجلاس کا مقصد اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران حکومت کو اہم قومی ایشوز پر گھیرنا ہے۔ کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتیں آپریشن سندور کے دوران مبینہ کوتاہیوں اور نقصانات پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہیں، جو 7 مئی کو پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کے کنوینراروند کیجریوال نے بہارمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے متعلق بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عام آدمی پارٹی بہارکا الیکشن اپنے دم پرلڑے گی۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عام آدمی پارٹی بہارمیں کسی اتحاد کے ساتھ الیکشن نہیں لڑے گی۔

بہاراسمبلی انتخابات سے قبل تیجسوی یادونے وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار کے لئے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے انڈیا الائنس کی رضامندی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ انہوں نے حکومت بننے پربہار کو اسکاٹ لینڈ جیسا بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے بی جے پی لیڈران پرسخت حملہ کیا اور انہیں’’چنٹو‘‘ کہا۔

وقف ترمیمی قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ سماعت کرے گی اور بھارت سرکار کی طرف سے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا جائے گا۔

اگر پوری کہانی کو سمجھا جائے تو چدمبرم نے کہا کہ اگر آپ کو بی جے پی سے مقابلہ کرنا ہے تو تنظیم کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سیاسی سفر میں کسی جماعت کو تنظیم کے طور پر اتنا مضبوط نہیں دیکھا۔ یہ ایک مشینری کے طور پر کام کر رہی ہے۔

مرکزی حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے، جس پراپوزیشن مسلسل حکومت پرحملہ آوررہی ہے۔ اب مودی حکومت کے اعلان کے بعد لالویادو نے اس پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے یوپی اے کی سابقہ ​​کوششوں کا ذکرکیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ہم 30 سال پہلے سوچتے تھے، دوسرے کئی دہائیوں بعد اس پرعمل کرتے ہیں۔

بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کے الزم پر اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی کو عدالتوں کو دھمکی دینے والوں کو روکنا چاہئے۔ وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت  پر سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت طے کیا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن نے بحث کے لئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔ اس پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امورکرن رجیجو کا کہنا ہے کہ بحث کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔