یوپی کے وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں 9 بار اردو الفاظ کا استعمال کیا… زبان کے تنازع کے درمیان عآپ لیڈر سنجے سنگھ کا بیان
Haryana Assembly Election 2024: ہریانہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس سے اتحاد سے متعلق عام آدمی پارٹی کی طرف سے بڑا بیان آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کو ہرانا ہم سب کا مقصد ہے۔ دراصل، راہل گاندھی نے ہریانہ کانگریس کے لیڈران سے عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے امکانات سے متعلق سوال پوچھے ہیں۔ کانگریس ذرائع کا ماننا ہے کہ راہل گاندھی ہریانہ میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں۔
سنجے سنگھ نے کہا، ”ان کے اس موقف کا میں خیرمقدم کرتا ہوں۔ یقینی طورپر بی جے پی کو ہرانا ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔ ان کی نفرت کی سیاست، ان کی عوام مخالف، کسان مخالف، نوجوانوں کے خلاف بی جے پی کی حکمت عملی اورمہنگائی سے متعلق ہمارا محاذ ہے۔ یقینی طورپران کو ہرانا ہماری ترجیح ہے، لیکن اس کے بارے میں باضابطہ طورپرہمارے ہریانہ کے انچارج اورریاستی صدر آگے کی بات چیت کی بنیاد پراس کی اطلاع اروند کیجریوال کو دیں گے اور پھراس پر کچھ بات آگے کی جائے گی۔”
دہلی میں بھی ہوگا الائنس؟
سنجے سنگھ نے ہریانہ کے ساتھ ساتھ دہلی اسمبلی الیکشن میں اتحاد کے سوال پرکہا کہ یہ ہریانہ الیکشن سے متعلق بات ہے۔ یہ لوک سبھا الیکشن سے متعلق بات نہیں ہے، کسی دوسری ریاست کی بات بھی نہیں ہے۔ کسی دوسری ریاست کی بات بھی نہیں ہے۔ اس لئے ہرپارٹی کی تنظیم جس طرح کام کرتا ہے، اسی طرح ہماری ہریانہ کی یونٹ اس پربات چیت کرے گی اوراروند کیجریوال کے ساتھ بات کرکے اس پر فیصلہ لے گا۔
سشیل کمارگپتا نے کیا کہا؟
وہیں، سنجے سنگھ کے بیان پرہریانہ عام آدمی پارٹی کے صدرسشیل کمارگپتا کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سنجے سنگھ نے کچھ کہا ہے تو سوچ کرہی کہا ہے۔ وہ ڈسپلن والے سپاہی ہیں، قیادت کا جوبھی فیصلہ ہوگا، اسے قبول کیا جائے گا۔ عام آدمی پارٹی 90 اسمبلی سیٹوں کے لئے تیاری کررہی ہے۔ ہم اپنے خیالات ہائی کمان کے سامنے پیش کریں گے۔ عام آدمی پارٹی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ ہریانہ میں آمریت چل رہی ہے۔ اتحاد کا فیصلہ ہائی کمان پرمنحصر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


