Bharat Express DD Free Dish

Sanjay Singh

سنجے سنگھ نے مزید دعویٰ کیا کہ سی بی آئی نے خود عدالت میں کہا ہے کہ پیپر لیک کیس میں گرفتار سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2024 کے پیپر لیک معاملے میں بھی سی بی آئی نے 90 دن تک چارج شیٹ داخل نہیں کی، جس کی وجہ سے تمام ملزمان کو فائدہ ملا اور وہ رہا ہو گئے۔دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دھرنے کو کمزور کرنے کے لئے وزیراعظم مودی نے راہل گاندھی کو اپنی رہائش گاہ پر دھرنے پر بٹھا دیا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم طلبا کے احتجاج کو پوری حمایت دے رہے ہیں۔

 عام آدمی پارٹی کے نیشنل کنوینر اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ پیپرلیک کا کاروباراربوں-کھربوں روپئے کا ہے اوراس کا پیسہ ٹاپ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی نیت پیپرلیک روکنے کی نہیں ہے، اب نظام بدلنے کے لئے عوام کو سڑکوں پرآنا پڑے گا۔

عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ اکھلیش یادو کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ عام آدمی پارٹی ان کے لئے سب سے اچھی پارٹی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اورسنجے سنگھ سمیت دیگرلیڈران سے ان کے تبصروں کے لئے جسٹس سورن کانتا شرما کے خلاف تبصروں کے لئے توہین عدالت کے معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے 14 مئی کے حکم کی بنیاد پرکارروائی شروع کی، جس میں سوشل میڈیا پوسٹس اوردیگرمواد کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایکسائز پالیسی کیس سے متعلق ہے، جہاں سیاسی لیڈران نے جج کوہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت کی منظوری کے بعد باغی اراکین نے پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط پیش کیا، پھر میڈیا کے سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کی اور اس کے بعد پارٹی صدر سے ملاقات کی۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

نئے ڈپٹی لیڈر اشوک کمار مِتل نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے این ڈی گپتا ڈپٹی لیڈر تھے، اس کے بعد راگھو چڈھا نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب انہیں یہ موقع دیا گیا ہے۔

سنجے سنگھ نے کہا کہ جمہوریت مکالمے سے چلتی ہے، مگر کچھ ریاستوں میں لاٹھی تنتر نافذ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلمانوں سے لے کر مذہبی رہنماؤں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ریزرویشن اور سرکاری تقرریوں میں بھی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

منی کرنیکا گھاٹ کے تزئین کاری سے متعلق سوشل میڈیا پر جعلی اور اے آئی سے تیار کی گئی تصاویر و ویڈیوز وائرل کرنے کے معاملے میں وارانسی پولیس نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ، آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو سمیت 8 افراد کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی گمراہ کن اور فرضی مواد سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ پوری خبر پڑھیں۔