Sonam Wangchuk: سونم وانگچک نے حکومت پر اٹھائے سوال، کہا- عدالتی جانچ رپورٹ آخر منظرعام پر کیوں نہیں لائی جا رہی؟
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس دن میڈیا بلیک آؤٹ جیسا ماحول تھا اور پی ٹی آئی، اے این آئی سمیت کئی میڈیا اداروں کی موجودگی نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈیا کو کسی خبر کو دکھانے یا روکنے کے لیے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ وانگچک نے کہا، ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ایسی خبر دکھانے کے لیے میڈیا کو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے؟‘
Jamia Millia Islamia Student Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گرلز ہاسٹل میں طالبات کا ہنگامہ، خراب کھانے کے خلاف احتجاج، ویڈیو وائرل
ہاسٹل میں انتہائی خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل شکایات کے باوجود ڈپٹی پراکٹر نکہت اور وارڈن کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا گیا۔ طالبات کے والدین نے جب ڈپٹی پراکٹر نکہت کو فون کیا تو انہیں بھی دھمکانے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ طالبات نے صبح دھرنا شروع کیا، جو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔
Ujjain Gen Alpha Protest: اجین میں طالبات کا سرکاری اسکول دور منتقل کرنے کے خلاف احتجاج، روتے ہوئے کہا: ہمیں صرف تعلیم چاہیے
طالبات نے تقریباً دو گھنٹے تک دھرنا دیا اور اسکولوں کو داؤد کھیڑی منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز کے خلاف نعرے لگائے۔ داؤد کھیڑی ان طالبات کے موجودہ اسکولوں سے تقریباً 6 سے 10 کلومیٹر دور اور شہر کی حدود سے باہر واقع ہے۔احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی پہلے ہی آس پاس کے دیہی علاقوں سے لمبا سفر کرکے اسکول پہنچتی ہیں۔
ED Steps into JPSC Exam Irregularity Case: جے پی ایس سی امتحان دھاندلی معاملے میں ای ڈی کی انٹری، آتے ہی کیا بڑا ایکشن
جے پی ایس سی کی 14ویں پی ٹی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے معاملے میں اب تک 19 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ معاملے کی اصل تحقیقات فی الحال سی آئی ڈی کر رہی ہے، جب کہ ای ڈی کی انٹری کے بعد مالی بے ضابطگیوں اور منی ٹریل سے متعلق پہلو بھی تحقیقات کا حصہ بن گئے ہیں۔
Sonam Wangchuk: سونم وانگچک کا 26 دن بعدبھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد کا پہلا بیان، کہا: کئی شرائط پر اتفاق کے بعد فیصلہ کیا
وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ طویل مذاکرات، متعدد شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو جاری کرکے ان تمام شرائط اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔
Our response must only be flowers: ’’ہمارا جواب صرف پھول ہونا چاہیے‘‘ سونم وانگچک نے جنتر منتر کے باہر تشدد کی اطلاعات کے درمیان کی مکمل امن کی اپیل
جمعرات کو وانگچک نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب مرکزی حکومت انہیں یقین دہانی کرائے گی کہ ’چلو سنسد‘ احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری یا انتقامی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
جماعت اسلامی ہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی جنترمنتر احتجاج میں شرکت، سونم وانگچک اور تعلیمی اصلاحات کے لئے احتجاج کر رہے طلبہ سے اظہار یکجہتی
جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
Jantar Mantar Protest: جنترمنتر احتجاج میں اپنے بیان کی وجہ سے پھر سے سرخیوں میں کنال کامرا، متنازع بیان سے بڑھ سکتی ہیں مشکلیں، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا لگا الزام
کنال کامرا نے اپنے خطاب کہا ’’موجودہ حکومت سیتا کے شوہر کا نام لے کر نیتا کے شوہر کے لیے کام کر رہی ہے اور صرف انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔‘‘ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنال کامرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ کامیڈین نے حکومت پر سیاسی طنز کیا تھا اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
BJP MLA Dr Rajeshwar Singh: ’میں لکھنؤ میں ایران معاملے پر ہو رہے احتجاج کی مذمت کرتا ہوں‘: ڈاکٹر راجیشور سنگھ
عالمی حالات کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایران سے متعلق جاری مظاہروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ان احتجاجی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔
Indian Youth Congress Protest: اے آئی سمٹ میں ہنگامہ، ٹی شرٹ اتار کر یوتھ کانگریس کارکنان کا بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج
کانگریس سے وابستہ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مجوزہ انڈو۔یو ایس ٹریڈ ڈیل کے خلاف تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ ملکی اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں مقامی صنعتوں اور نوجوانوں کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہے۔





