Bharat Express DD Free Dish

Gyanesh Kumar

عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شامل نہ ہونے پر عمران مسعود نے کہا کہ جو راہل گاندھی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں، وہی اس لڑائی میں نظر آئیں گے۔ باقی یا تو طوفان میں بہہ جائیں گے یا دوسری طرف رہ کر بہہ جائیں گے۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کا الزام لگایا تھا، جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں SIR کے لیے جاری حکم کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوا تھا اور سپریم کورٹ بھی اسے برقرار رکھ چکا ہے، اب اسی معاملے پر کانگریس نے ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک پریس نوٹ شیئر کیا، جس میں فارم-6 سے متعلق سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا ذکر ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اب یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یک طرفہ طریقے سے ’فارم-6‘ میں تبدیلی کی ہے۔

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے انہیں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد سب نے مل کر متعلقہ افسر کو تلاش کیا اور ان سے مبینہ بدسلوکی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، لیکن افسر نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔روزی کے مطابق، اس کے بعد تمام لوگ جمع ہو کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی معطلی کے مطالبے کے ساتھ یہ بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار نے مبینہ طور پر دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی رضامندی کے بغیر کئی فیصلے کیے، رہنما اصول جاری کیے اور سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کیں۔

گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف مظاہرے، راہل گاندھی نے کہا- ہزاروں نوجوان پُرامن طریقے سے اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں، مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

احتجاج سے قبل 2 اکتوبر کی صبح ابھجیت دیپکے باندرہ اسٹیشن پر چائے پیتے بھی نظر آئے۔ اس دوران وہاں موجود ایک چائے فروش نے ان کے کام کی تعریف کی۔ اس کے بعد دیپکے نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ شام 4 بجے شیواجی پارک پہنچے گا۔اس موقع پر CJP کے حامیوں کی بھیڑ بھی نظر آئی۔ تنظیم نے 2 اکتوبر کے احتجاج کو اپنی ملک گیر مہم کا آغاز قرار دیا ہے، جس کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کرنے اور آخرکار دہلی کے جنتر منتر تک مہم لے جانے کا اعلان کیا گیا ہے

رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد میں 23 جماعتیں شامل تھیں، اب دو جماعتوں کے الگ ہونے کے بعد یہ تعداد 21 رہ گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے نے اتحاد سے دوری اختیار کی ہے۔

سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر لسٹوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں جمہوری نظام کی مضبوط بنیاد کو کمزور کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سازش کے تحت ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مودی حکومت کی ’کٹھ پتلی‘ بن گئے ہیں۔