Bharat Express DD Free Dish

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے سے متعلق کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن آف انڈیا میں دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر فیصلے کیے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے ان الزامات پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ اگر الیکشن کمیشن کے جواب پر غور کرنے کے بعد یہ پایا جاتا ہے کہ کچھ فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کیے گئے تھے تو عدالت ان فیصلوں پر دوبارہ غور کر سکتی ہے یا انہیں واپس لے سکتی ہے۔ عدالت نے کہا، ’’نوٹس کے بعد اگر وہ آکر یہ بتاتے ہیں کہ فلاں فلاں فیصلے اتفاق رائے کے بغیر کیے گئے تھے تو ہم ان فیصلوں کو واپس لے لیں گے۔‘‘

ایس آئی آر سے متعلق عرضیوں پر سماعت

سپریم کورٹ میں یہ سماعت ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف دائر عرضیوں پر ہو رہی تھی۔ ایک عرضی میں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ ایک کثیر رکنی آئینی ادارے کی حیثیت سے الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات کا استعمال قانون کے تحت مقرر اجتماعی فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے بھی استعفے کا مطالبہ کیا

اس سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس اجول بھویاں کی جانب سے ووٹروں کو مبینہ طور پر من مانی طریقے سے حق رائے دہی سے محروم کیے جانے سے متعلق دیے گئے بیان کے پس منظر میں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ جسٹس اجول بھویاں نے چیف الیکشن کمشنر کے کردار کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ ایکس پر پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’اگر گیانیش کمار میں ذرا بھی شرم باقی ہے تو انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ غیر قانونی احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں ملک کے لیے بوجھ بنا دیا ہے۔‘‘

جسٹس بھویاں نے حق رائے دہی سے محرومی پر کیا کہا؟

جے رام رمیش کا یہ ردعمل اتوار کو حیدرآباد میں 19ویں نالسار بی آر ایس موٹ کورٹ مقابلے کی اختتامی تقریب میں جسٹس اجول بھویاں کی تقریر کے بعد سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ ایسا کوئی بھی طریقہ کار جس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جائے اور انہیں اپنے ہی ملک میں ووٹ کے حق سے محروم ’’دوسرے درجے کے شہری‘‘ بنا دیا جائے، وہ بنیادی طور پر من مانی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کسی عمل کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی شہری حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں اور انہیں اپنے ہی ملک میں ووٹ کے حق کے بغیر دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے تو ایسا عمل ’’بنیادی طور پر من مانی‘‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ کسی بھی قسم کی دلیل اس کا جواز پیش نہیں کر سکتی اور یہ آئین کی بنیادی روح پر ضرب لگاتا ہے۔ یہ تبصرے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو لے کر جاری تنازع کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یوتھ کانگریس کا جنتر منتر کی طرف احتجاجی مارچ

اتوار کو انڈین یوتھ کانگریس نے بھی گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے رائے سینا روڈ سے جنتر منتر کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت پر چیف الیکشن کمشنر کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا اور ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ مارچ کی قیادت انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو نے کی۔ سیکڑوں کارکن ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ اس دوران راستے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے اور بیریکیڈنگ بھی کی گئی تھی۔ ادے بھانو نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے دہلی پولیس پر مظاہرین کو مقررہ احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکنے پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں جنتر منتر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور کہا کہ ان کی جماعت وہاں تک جانے کی کوشش جاری رکھے گی۔

الیکشن کمیشن نے اختلاف کی رپورٹ کو مسترد کیا

یہ تنازع اس رپورٹ کے بعد مزید نمایاں ہوا جس میں ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر ووٹر لسٹوں، ووٹر رجسٹریشن اور کمیشن کے ٹیکنالوجی سسٹمز سے متعلق فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ یہ اعتراضات حتمی فیصلوں پر ادارہ جاتی اختلاف کی عکاسی کرتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ مسودہ مرحلے کے دوران اٹھائے جانے والے عملی سوالات، تجاویز اور آرا اس کے معمول کے انتظامی اور فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر کی مشق کے شیڈول سے متعلق فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read