Demand for contempt of court proceedings against Sunny Joseph: چیف جسٹس سے ’فوراً استعفیٰ دینے‘ کا مطالبہ کرنے والی پوسٹ پر کیرالہ کانگریس کے سربراہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی درخواست
سویتا سنگھ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پوسٹ میں چیف جسٹس کو جس انداز میں مخاطب کیا گیا وہ دباؤ ڈالنے، دھمکانے اور تحقیر آمیز زبان استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، اس سے سپریم کورٹ اور ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی عہدے کے وقار کو مجروح کیا گیا۔
Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Supreme Court: دہلی میں میٹرو اور ٹرین خدمات بند کرنے پر سپریم کورٹ سخت، توہین عدالت کی عرضی پر کل خصوصی بنچ کرے گی سماعت
دہلی میں سی جے پی احتجاج کے دوران میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے اور ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر 11 اکتوبر کو خصوصی سماعت مقرر کی ہے۔
CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار
گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
این آئی اے کیس میں پانچ سال سے زائد عرصے سے زیرحراست محمد شہزاد کمال کو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت
یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پیروی کے بعد ملی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے یکم اکتوبر 2026 کو محمد شہزاد کمال بنام این آئی اے کے درمیان مقدمے میں فیصلہ سنایا۔
Justice Surya Kant Addresses UGC Regulations: جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی، کہا-’’ان کے الفاظ، خیالات یا کردار کی عکاسی نہیں کرتا یہ بیان‘‘
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
SC agrees to hear plea against ECI: سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے خلاف عرضی پر سماعت کے لیے تیار، چیف الیکشن کمشنر پر اختیارات تنہا استعمال کرنے کا الزام
عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔
Supreme Court on YouTuber: ’’بغیر ثبوت کے ججوں پر بدعنوانی کا الزام غلط‘‘ یوٹیوبر گلشن پاہوجا کی عرضی پر سپریم کورٹ سخت، عرضی گزار کو نہیں ملی راحت
سپریم کورٹ نے فوری راحت دینے سے انکار کیا کرتے ہوئے عرضی گزار کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے الزامات سے عدالتی افسر کا پورا کیریئر داؤ پر لگ جاتا ہے۔ گلشن پاہوجا کو دہلی ہائی کورٹ نے مجرمانہ توہین عدالت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
The Voice of Justice: Justice Gavai Speaks: نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کے ہاتھوں ”دی وائس آف جسٹس: جسٹس گوائی اسپیکس“ کا اجرا
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اس کتاب کو ایک اہم آئینی دستاویز قرار دیا، جو تجربے، آئینی نظم و ضبط اور عوامی ذمہ داری سے تشکیل پانے والی عدالتی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور جمہوری طرز حکمرانی کے حوالے سے گراں قدر بصیرت فراہم کرتی ہے اور بھارت میں آئینی مباحث اور قانونی تحقیق کو مزید تقویت بخشے گی۔
Fine on Samay Raina: ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ تنازع میں سپریم کورٹ نے کامیڈین سمے رینا پر لگایا 3 لاکھ روپے کا جرمانہ، کہا-’’عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی‘‘
سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کامیڈین سمے رینا سمیت شو میں شریک دیگر کامیڈینز اور مہمانوں پر تین، تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور دو ہفتوں میں رقم جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سمے رینا نے کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے سامنے غلط بیانات پیش کیے۔





