نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت اور ذات پات، سماجی مساوات اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ضوابط سے متعلق کچھ بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہے ہیں۔ ان پوسٹس میں یو جی سی ایکویٹی ریگولیشنز سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ سے مختلف تبصرے منسوب کیے گئے ہیں۔ وائرل پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالت نے ذات سے پاک معاشرے کی حمایت کی اور ایسے ضوابط پر سوال اٹھایا جن میں مبینہ طور پر صرف ایک مخصوص طبقے کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
مختلف مذاہب میں ذات پات کا سوال
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر تصاویر میں بنچ سے مزید سوالات منسوب کیے گئے ہیں۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ کیا برہمنوں نے مسلمانوں، عیسائیوں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں اور جینیوں میں ذات پات کی تقسیم پیدا کی؟ وائرل پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگ ذات پات کی تقسیم کے مخالف ہیں تو پھر وہ اپنی ذات کی شناخت کا استعمال کیوں جاری رکھتے ہیں۔ ایک اور گرافک میں چیف جسٹس کی تعریف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے عدالت میں اپنے تبصروں کے ذریعے یو جی سی اور ریزرویشن سے متعلق بحث کو ختم کردیا۔ اس میں عدالت سے یہ جملہ منسوب کیا گیا: ’’ہم ذات سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں؛ کیا آپ ملک کو ماضی میں لے جانا چاہتے ہیں؟‘‘
یو جی سی ایکویٹی ریگولیشنز پر سپریم کورٹ کی کارروائی
دستیاب رپورٹوں کے مطابق، 2026 کے یو جی سی ایکویٹی ریگولیشنز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واقعی ذات سے پاک معاشرے کی ضرورت پر تبصرہ کیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے ان ضوابط پر روک لگا دی اور مزید کارروائی تک 2012 کے فریم ورک کو جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
جسٹس سوریہ کانت نے وائرل بیان کی تردید کی
تاہم، اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اسے من گھڑت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ بیان ان کے الفاظ، خیالات یا کردار کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس طرح یو جی سی ضوابط سے متعلق سماعت میں عدالت کے ذات سے پاک معاشرے کے حوالے سے تبصرے اور سوشل میڈیا پر جسٹس سوریہ کانت سے منسوب دیگر بیانات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



