Justice Surya Kant Addresses UGC Regulations: جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی، کہا-’’ان کے الفاظ، خیالات یا کردار کی عکاسی نہیں کرتا یہ بیان‘‘
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
WB Govt Reservation Policy: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کو او بی سی فہرست سے 77 برادریوں کی منسوخی کے خلاف اپیل واپس لینے کی دی اجازت
ریاستی کابینہ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل واپس۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے 75 مسلم برادریوں سمیت 77 برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
Jamaat-e-Islami Hind & APCR visit: جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر کے اعلیٰ سطحی وفد کا توپسیہ اور بنگال کے مختلف اضلاع کا دورہ، متاثرین سے ملاقات اور قانونی تحفظ کا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے توپسیا کے عوام سے ملاقات کے دوران جماعت کی جانب سے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اس موقع پر ای پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے مسئلے کے قانونی پہلوؤں پر متاثرین اور وکلا سے گفتگو کی اور مستقبل میں قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں مقامی افراد کو قانونی امداد کا بھروسہ دلایا ۔
Protection of Civil Rights: اے پی سی آر کے وفد کا بہار میں ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات، فوری انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ
اے پی سی آر کے وفد نے شہزاد علی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، جنہیں مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اے پی سی آر انصاف کے حصول کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع استعمال کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور ان مقدمات کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلایا جا سکے۔
’’منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ، ندا خان معاملے میں حکمراں جماعت نے کیا میڈیا ٹرائل‘‘ اسدالدین اویسی نے لگایا بڑا الزام
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کا معاملہ وزارت داخلہ کے تحت آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میپنگ ضروری ہے اور اگر یہ نہیں ہوگی تو والدین کے ناموں کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘
CJI Surya Kant On Artificial Intelligence: سماجی انصاف ہی انسانی معاشرے کی اصل بنیاد: دنکر اسمرتی لیکچر میں چیف جسٹس سوریہ کانت کا اے آئی کے خطرات پر اظہار تشویش
بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور اس سے جڑے سماجی خطرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر انسانی اقدار اور سماجی انصاف سے دور ہو جائے تو یہ معاشرے میں نئی قسم کی ناانصافیاں پیدا کر سکتی ہے۔
Caste Census: ’’ذات پر مبنی مردم شماری کی تفصیلات اب تک واضح نہیں، اپوزیشن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘‘ کانگریس کا مرکزی حکومت پر بڑا الزام
جے رام رمیش نے پرانے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2021 میں حکومت نے عدالت میں حلف نامہ دے کر ذاتی مردم شماری کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں ذاتی مردم شماری کے مطالبے کو ’’اربن نکسل‘‘ سوچ قرار دیا تھا، جس پر اب انہیں کانگریس سے معافی مانگنی چاہیے۔
Amit Shah pay tribute: بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی 135ویں یومِ پیدائش کے موقع پر وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا خراج عقیدت
وزیرداخلہ امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ امبیڈکر نے جمہوریت کی مضبوط بنیاد رکھی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔ وزیرداخلہ کے مطابق بابا صاحب نے معاشرے کو تعلیم یافتہ اور منظم ہونے کا پیغام دیا، جو آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
PM Modi pays tribute: ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی زندگی اور خدمات منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ہمیشہ تحریک دیتی رہیں گی: وزیراعظم
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ہندوستانی آئین کے معمار اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ قانون تھے۔ وہ مدھیہ پردیش کے ایک غریب دلت خاندان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پسماندہ طبقات کے مساوی حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
Ambedkar Jayanti: امبیڈکر جینتی پرصدر جمہوریہ، نائب صدر اور وزیراعظم سمیت متعدد لیڈروں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو پیش کیا خراجِ عقیدت
ڈاکٹر امبیڈکر کی خدمات خواہ وہ آئین سازی ہو، سماجی انصاف کا قیام یا خواتین کے حقوق آج بھی ہندوستان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ امبیڈکر جینتی کے موقع پر ملک بھر میں ان کے نظریات کو اپنانے اور ایک منصفانہ و مساوی معاشرہ قائم کرنے کا عزم دہرایا گیا۔





