Drop cases against Dalit: راہل گاندھی کا وزیراعظم نریندر مودی سے دلت اور آدیواسی مظاہرین کے خلاف مقدمات واپس لینے کا مطالبہ، سماجی انصاف اور آئینی اقدار پر زور
2018 کے احتجاج کے دوران درج مقدمات کو ختم کرنے اور متاثرہ نوجوانوں کو راحت دینے کی اپیل۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو یا تو ختم کیا جائے یا واپس لیا جائے تاکہ ان نوجوانوں کو طویل قانونی کارروائیوں کے بوجھ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔
Anupriya Patel shares her vision: ’’سماجی انصاف کی لڑائی ابھی طویل ہے…‘‘ بھارت ایکسپریس کانکلیو میں انوپریا پٹیل نے پیش کیا ’نئے بھارت‘ کا ویژن
انوپریا پٹیل نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہیں مودی کی قیادت والی حکومت میں کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کا مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا۔
‘Rozgar Do, Samajik Nyay Do Padyatra’: عام آدمی پارٹی کی ’روزگار دو، سماجی انصاف دو‘ پدیاترا آٹھویں روز امیٹھی سے شروع ہو کر پہنچے گی پرتاپ گڑھ
عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ بدھ، 19 نومبر 2025 کو جاری ’’روزگار دو، سماجی انصاف دو‘‘ پدیاترا کے آٹھویں روز کی قیادت کریں گے۔ یہ پدیاترا صبح 10 بجے امیٹھی کے تری شُنڈی سے روانہ ہوگی اور طے شدہ شیڈول کے مطابق شام 5 بجے پرتاپ گڑھ کے سدر بازار پہنچے گی۔
APCR team meets Hari Om Balmiki’s family: ہری اوم بالمیکی کی وحشیانہ پٹائی اور موت کا معاملہ: اے پی سی آر کی ٹیم نے متاثرہ خاندان سے کی ملاقات، مکمل قانونی تعاون کا دلایا یقین
ایڈووکیٹ محمد طفیل نے متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اے پی سی آر متاثرہ خاندان کے ساتھ قانونی اور سماجی دونوں سطحوں پر انصاف کی لڑائی لڑے گا۔‘‘
PM Modi pays tribute Sree Narayana Guru: وزیراعظم مودی کا سری نارائن گرو کو خراج عقیدت، کہا- سماجی مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام آج بھی نسلوں کو متاثر کرتا ہے
سری نارائن گرو (20 اگست 1856 – 20 ستمبر 1928) کیرالا کے ایک سنت، فلسفی، روحانی رہنما اور سماجی مصلح تھے۔ انہوں نے تعلیم، صفائی، خدا سے عقیدت، تنظیم، اور زراعت کو فروغ دیا۔ وہ صنعتوں کو معاشی خود مختاری کا ذریعہ سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ درست مہارت، محنت، علم، تعلیم اور صاف ستھری زندگی کے ذریعے لوگ خوداعتماد، خوددار، نڈر اور اخلاقی و مالی طور پر مضبوط بن سکتے ہیں۔
Hand-pulled rickshaw an inhuman practice: ’’رکشا کھینچنا شوق نہیں، مجبوری ہے‘‘— سپریم کورٹ نے انسانی عظمت اور سماجی انصاف پر اٹھائے سوالات
سپریم کورٹ نے ہاتھ سے چلنے والے رکشے کو غیر انسانی عمل قرار دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا، یہ روزی روٹی کی مجبوری ہے، کسی کی مرضی نہیں۔ عدالت نے ای رکشہ کے آپشن اور رکشہ ڈرائیوروں کی بحالی پر زور دیا۔
Government jobs to victims of 1984 riots: طویل انتظار کے بعد اب پوری ہوئیں امیدیں، دہلی کی وزیر اعلیٰ نے 1984 کے فسادات کے متاثرین کو سرکاری نوکریاں فراہم کیں
دہلی میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متاثرہ خاندانوں کو 40 سال بعد انصاف ملا ہے۔ سی ایم ریکھا گپتا نے 89 لوگوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامے سونپے۔





