رائے بریلی/فتح پور: فتح پور ضلع کے محلہ تراب علی کا پوروا کے رہائشی ہری اوم بالمیکی (فرزند گنگا دین بالمیکی، سبکدوش ملازم – ٹی بی اسپتال، فتح پور) کی رائے بریلی کے تھانہ گدار گنج علاقے میں 1 اور 2 اکتوبر کی درمیانی شب بھیڑ کے ہاتھوں پٹائی کے نتیجے میں المناک موت واقع ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق ہری اوم اپنی سسرال، اونچاہار جارہے تھے کہ راستے میں چند افراد نے انہیں روک کر ’’چور‘‘ کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات
پیر کے روز ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی ٹیم نے مقتول کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ ٹیم کی قیادت اے پی سی آر فتح پور کے ضلعی صدر ایڈووکیٹ محمد طفیل نے کی۔ اس موقع پر مرحوم کے والدین، بہن، بہنوئی اور سب سے چھوٹی بہن کُسُم سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کُسُم نے بتایا کہ ’’میرا بھائی اپنی سسرال جا رہا تھا، راستے میں کچھ لوگوں نے اسے پکڑ کر ’چور‘ کہہ کر مارنا شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی، مگر پولیس موقع پر آنے کے باوجود نہ تو حملہ آوروں کو گرفتار کیا اور نہ ہی میرے بھائی کو فوراً اسپتال لے گئی۔ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو شاید آج وہ زندہ ہوتا۔‘‘
بھائی کے ساتھ کیا گیا وحشیانہ سلوک
انہوں نے روتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے بھائی کے ساتھ انتہائی وحشیانہ سلوک کیا گیا۔ ’’اسے بے دردی سے مارا گیا، ایک آنکھ پھوڑ دی گئی اور اس کے ساتھ جسمانی زیادتی بھی کی گئی۔‘‘ کُسُم کے مطابق، جب قاتلوں نے اس سے نام پوچھا تو اس نے ’راہل گاندھی‘ بتایا، جس پر انہوں نے کہا کہ ’’یہاں سب بابا والے ہیں‘‘ اور اس کے بعد اس کو قتل کر دیا گیا۔
ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ
اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ملزمان کو فوراً گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے انسانیت سوز واقعات نہ دہرائے جائیں۔ ایڈووکیٹ محمد طفیل نے متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اے پی سی آر متاثرہ خاندان کے ساتھ قانونی اور سماجی دونوں سطحوں پر انصاف کی لڑائی لڑے گا۔‘‘ اس موقع پر مقصود احمد، ایڈووکیٹ محمد حفیظ اور ایڈووکیٹ عبدالصمد بھی موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



