دہلی میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متاثرہ خاندانوں کے لیے آج کا دن ایک تاریخی دن تھا۔ 40 سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر ان خاندانوں کو انصاف کی کرن مل گئی۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے 89 ضرورت مندوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامے سونپے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اس تاریخی ناانصافی کو درست کرنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھایا ہے، جو اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا تھا۔
आज दिल्ली सचिवालय में 1984 सिख नरसंहार पीड़ित परिवारों को नौकरियों के लिए Joining Letter दिये गए। यह सिर्फ एक कार्यक्रम नहीं था, बल्कि न्याय और सम्मान की दिशा में एक मजबूत कदम है।
मैं मुख्यमंत्री श्रीमती @gupta_rekha जी का दिल से धन्यवाद करता हूँ, जिन्होंने वर्षों से अनदेखी झेल… pic.twitter.com/h1HvLPLcmg
— Manjinder Singh Sirsa (@mssirsa) May 27, 2025
متاثرہ خاندانوں کی تیسری نسل کے لیے نوکریاں
ماحولیات اور جنگلات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ اتنے سالوں کے بعد جب تقرری نامے موصول ہوئے، متاثرہ خاندانوں کی تیسری نسل ملازمتوں کے لیے اہل ہو چکی تھی۔ حکومت نے تمام رسمی کارروائیوں کو آسان بنا دیا ہے تاکہ اہل امیدوار آسانی سے ملازمت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کل 125 لوگوں کو تقرری نامے دیے جانے تھے، جن میں سے 89 کوآج تقرری نامے سونپ دئیے گئے ہیں، باقی کو عمل مکمل ہونے کے بعد جلد ہی دیا جائے گا۔
دیگر کمیونٹیز کے لیے بھی ریلیف پہل: سی ایم
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے کشمیری پناہ گزینوں کے لیے امدادی اقدام شروع کیا ہے اور جمہوریت کےلیے لڑنے والے سپاہیوں کو پنشن فراہم کرنے کے منصوبے پر کام جاری کیا۔ اس فیصلے سے 1984 کے فسادات سے متاثرہ خاندانوں میں نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
آج بھی ان متاثرہ خاندانوں کی آنکھوں میں اس درد کے آنسو نظر آتے ہیں لیکن حکومت کے اس قدم سے ان کی زندگیوں میں ایک نئی شروعات ہوئی ہے اور نظام پر ان کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔ اس قدم سے نہ صرف متاثرین کو راحت ملے گی بلکہ اس فیصلے کو کئی دہائیوں سے جاری ناانصافی کا ازالہ کرنے کی سمت ایک اہم قدم مانا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




