Bharat Express DD Free Dish

Delhi Government

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بازاروں میں ہر طرح کے پٹاخے دستیاب ہیں۔ جسٹس سندریش نے کہا کہ لائسنس یافتہ ہوں یا بغیر لائسنس والے، کیو آر کوڈ والے ہوں یا بغیر کیو آر کوڈ والے، ہر طرح کے پٹاخے بازاروں میں مل رہے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ نے صرف گرین پٹاخوں کو مخصوص شرائط اور مقررہ وقت کے اندر جلانے کی اجازت دی ہے۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ تیار، بی ایس-6 سے کم معیار والی بیرونی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، پی یو سی سرٹیفکیٹ کے بغیر ایندھن نہیں ملے گا، تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اے آئی کیمروں سے ہوگی۔

زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل سنگھ کے درمیان بحث، آپ کا دعویٰ - پرویش ورما نے واقعے کی ویڈیو بنا رہے نوجوان کو تھپڑ مارا۔

ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دہلی میں چل رہے پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرے۔ ایم سی ڈی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پی جی کے لیے کوئی ضابطہ یا نظام موجود ہے یا نہیں اور ان پی جی و ہاسٹل میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے بھی معلومات طلب کی ہیں کہ دہلی سے باہر کے کتنے طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کتنے ہاسٹل دستیاب ہیں۔

ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی غیر محفوظ پی جی میں رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عمارت سے نکالے گئے لوگوں کے لیے کالج ہاسٹل میں رہائش کا انتظام کیا گیا ہے اور حکومت ان کی ضروریات کا خیال رکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثرہ طلبہ کے والدین سے بھی حکومت رابطے میں ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

برکس سربراہی اجلاس کے دوران غیر ملکی مہمانوں کی آمدورفت اور سکیورٹی پروٹوکول کے باعث شہر کی بعض اہم سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار متاثر ہونے اور مخصوص راستوں پر عارضی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے انتظامات کو ہموار رکھنے کے لیے تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ سرکاری اداروں میں معمول کی آمدورفت کم رہے اور سکیورٹی ایجنسیوں کو بھی اجلاس کے دوران بہتر انتظام کرنے میں سہولت مل سکے۔

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معروف شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر مہمانانِ خصوصی کے علاوہ شعروادب سے وابستہ شخصیات اور ادب نواز سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کے آغازمیں اردواکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے مہمانِ خصوصی عاطف رشید، سابق وائس چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن، حکومتِ ہند کو پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔

میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

ثقافتی تقریب کے اختتام پر دہلی گھرانے کے معروف قوال ارشد عدنان قطبی اوران کے گروپ نے صوفیانہ قوالیوں کی محفل سجائی۔ انھوں نے اپنی پیشکش کا آغاز’’دل دیا ہے جاں بھی دیں گے، اے وطن تیرے لیے‘‘ سے کیا بعد ازاں حب الوطنی کے موضوع پرمختلف کلام اپنے منفرد اورپُرسوزاندازمیں پیش کیے۔ قوالوں کی دل سوزآوازاورصوفیانہ رنگ نے محفل کو یادگاربنا دیا۔