Bharat Express DD Free Dish

Anti-Corruption Bureau takes action: دہلی میں بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش، جعلی فارمیسی رجسٹریشن کے الزام میں 47 افراد گرفتار

دہلی فارمیسی کاؤنسل میں 4928 فارمسسٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 70 فیصد فارماسسٹ کے فرضی ہونے کا امکان، اطلاع کے مطابق اس اسکینڈل کے تحت جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ہزاروں فارماسسٹوں کو غیر قانونی طور پر رجسٹر کیا گیا۔

دہلی اینٹی کرپشن برانچ نے دہلی میں ایک بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا ہے۔ فارمیسی کی جعلی رجسٹریشن کے الزام میں 47 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دیگر ملزمان کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے۔

فرضی فارماسسٹ بنانے والے گروہ کا پردہ فاش ہونے کے بعد اے سی بی (اینٹی کرپشن بیورو) کی ایک ٹیم نے دہلی فارمیسی کاؤنسل میں معاہدے پر تعینات کلرک مکیش کمار شرما سے پوچھ تاچھ کی بنیاد پر فارماسسٹوں کے دستاویز کی جانچ تیز کر دی تھی تاکہ کاؤنسل میں رجسٹرڈ فرضی فارماسسٹوں کی شناخت کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق مکیش 20 سال سے کاؤنسل میں تعینات ہے۔ اے سی بی نے دعویٰ کیا ہے اسے اس فرضی واڑے کا پورا علم تھا۔ اس لیے خاص کڑی مانتے ہوئے گرفتاری کے دوران ہی مکیش سے تفصیلی پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔

دہلی فارمیسی کاؤنسل  میں 4928 فارمسسٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے تقریباً 70 فیصد فرضی فارماسسٹ ہونے کا امکان ہے۔ اے سی بی کے جوائنٹ کمشنر مدھر ورما نے بتایا کہ زیادہ تر فرضی فارماسسٹوں نے اپنی اپنی دوا کی دکان کھول رکھی ہے۔ اے سی بی کے مطابق جانچ میں جو بھی فارماسسٹ فرضی پائے جائیں گے، ان کی فہرست تیار کرکے فوری طور پر ڈرگس کنٹرول ڈپارٹمنٹ و فارمیسی کاؤنسل کو خط لکھ کر ان کے لائسنس اور رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کرنے کے لیے کہا جائے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ مکیش کمار کو کاؤنسل کے بارے میں سبھی جانکاری ہے۔ اس کی اتر پردیش اور پنجاب کے کالجوں سے ملی بھگت ہے، جس سے وہ ان کالجوں سے امیدواروں کو فارماسسٹ میں ڈپلوما کا فرضی دستاویز بنوا دیتا تھا اور دہلی فارمایسی کاؤنسل سے ان کالجوں کو تصدیق کے لیے بھیجے گئے ای میل پر وہاں کے کلرکوں کو کمیشن دے کر فرضی طریقے سے دستاویز کی تصدیق بھی کروا دیتا تھا۔

سابق رجسٹرار اور کلرک سمیت کل 47 افراد گرفتار معلومات کے مطابق اس اسکینڈل کے تحت جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ہزاروں فارماسسٹوں کو غیر قانونی طور پر رجسٹر کیا گیا۔ آن لائن رجسٹریشن کا کام مناسب ٹینڈر کے عمل کے بغیر VMC نامی ایک پرائیویٹ فرم کو سونپا گیا تھا۔ اس گھوٹالے میں کئی بروکرز، کالج کے ملازمین اور پرنٹنگ شاپ کے مالکان ملوث ہیں۔ جعلی ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ تیار کر کے غیر قانونی رجسٹریشن کی گئی۔ اس کیس میں سابق رجسٹرار اور کلرک سمیت کل 47 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اب تک کیا کیا پتہ چلا؟

کل 4928 جعلی رجسٹریشن کی گئی، ابتدائی تفتیش میں 35 جعلی فارماسسٹ گرفتار۔

آن لائن رجسٹریشن 21 جولائی 2020 سے VMC فرم کے ذریعے شروع ہوئی جس کا تقرر بغیر کسی ٹینڈر کے عمل کے کیا گیا تھا۔

رجسٹریشن جعلی سرٹیفکیٹ آن لائن اپ لوڈ کرکے کی گئی، اور کالج کے کچھ عملے نے ای میل کے ذریعے جعلی تصدیق کی۔

کلدیپ سنگھ (سابق رجسٹرار) نے بروکر سنجے کے ذریعے رشوت لے کر رجسٹریشن کی منظوری دی۔

کچھ درخواست دہندگان نے مختلف دستاویزات کے ساتھ متعدد درخواستیں جمع کرائیں، پھر بھی رجسٹریشن کو بغیر کسی اعتراض کے منظور کر لیا گیا۔

جعلی ای میل آئی ڈیز کے ذریعے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کی گئی۔

رجسٹرار کے عہدے سے ہٹانے کے بعد بھی کلدیپ سنگھ نے اپنے ذاتی ای میل سے مزید 232 جعلی رجسٹریشن کی منظوری دی۔

شاہ آباد، دہلی کا رہنے والا نیرج جعلی سرٹیفکیٹ پرنٹ کرتا تھا۔ دوران تفتیش اس کے کمپیوٹر سے کئی جعلی دستاویزات برآمد ہوئیں۔

اے سی بی نے بڑی تعداد میں جعلی سرٹیفکیٹس، ڈپلوما، کمپیوٹر اور پرنٹرس ضبط کرلئے۔

دہلی میں بہت سے فارماسسٹ اور کیمسٹ ہیں جو مناسب قابلیت کے بغیر فرضی لائسنس پر کام کر رہے ہیں، جن میں سے کچھ نے دسویں بھی پاس نہیں کی ہے۔

گرفتار کیے گئے مرکزی ملازمین

* کلدیپ سنگھ (سابق رجسٹرار، دہلی فارمیسی کونسل)

*مکیش کمار شرما (کلرک، دہلی فارمیسی کونسل)

* سنجے کمار (مین بروکر)

*دھرمیندر، اجے سینی، جئے کشور پودار، نیرج، اجے کمار (سب ٹاؤٹ)

* نیرج (پرنٹنگ دکان کا مالک)

* گروشرن، ہری اوم، ظفر حیات (فارمیسی کالج اسٹاف)

* 35 غیر قانونی فارماسسٹ / کیمسٹ گرفتار

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read