دہلی حکومت نے پرانی گاڑیوں کے انتظام کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق 2024 سے دہلی میں 10 سال سے پرانی ڈیزل گاڑیوں اور 15 سال سے زیادہ پرانی پٹرول/سی این جی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ ایسی ’ایںڈ آف لائف‘ گاڑیوں کی تعداد 55 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسی گاڑیوں کی فہرست محکمہ ٹرانسپورٹ کی ویب سائٹ پر ڈال دی گئی ہے۔
ان گاڑیوں کو گھر کے باہر کے خالی جگہ سمیت عوامی مقامات پر پارک کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں گاڑیوں کے مالکان کے پاس درجہ ذیل 3 آپشنز باقی رہ جاتے ہیں:
1- ایسی گاڑی کو صرف اپنی ذاتی پارکنگ کی جگہ پر پارک کریں، جو کہ مشترکہ پارکنگ کی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
2- گاڑی کو اس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ کے ایک سال کے اندر قومی راجدھانی کے علاقے سے باہر لے جانے کے لیے ’نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ‘ (این او سی) حاصل کرنا ہوگا۔
3- گاڑی کو اسکریپ کریں۔ اس کے لیے ’رضاکارانہ وہیکل اسکریپنگ ایپلی کیشن‘ کے ذریعے کسی رجسٹرڈ گاڑی کی اسکریپنگ کی سہولت کا استعمال کریں۔ اس عمل کے ذریعے نئی گاڑی کی رجسٹریشن پر بھی موٹر وہیکل ٹیکس میں چھوٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔
اگر دہلی میں عوامی مقامات پر پرانی گاڑیاں چلتی ہوئی یا پارک کی ہوئی پائی جاتی ہیں تو انہیں ضبط کیا جا سکتا ہے اور 5000 روپے یا 10000 روپے کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد ہی ایسی گاڑیوں کو ایندھن بھی نہیں ملے گا۔ ساتھ ہی اگر این او سی جاری ہونے کے ایک ماہ کے اندر گاڑی دہلی سے باہر نہیں لی جائی گئی تو اس کی پارکنگ بھی غیر قانونی ہوگی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ، دہلی ٹریفک پولیس، نئی دہلی میونسپل کونسل، دہلی میونسپل کارپوریشن اور دہلی کنٹونمنٹ بورڈ ایسی گاڑیوں کو ضبط کر سکتے ہیں۔ نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آپ کے مفاد میں ہے کہ آپ ایسی گاڑیوں کو اسکریپ کرائیں یا این او سی حاصل کرکے انہیں این سی آر کے علاقے سے باہر بھیجیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


