Bharat Express DD Free Dish

’’منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ، ندا خان معاملے میں حکمراں جماعت نے کیا میڈیا ٹرائل‘‘ اسدالدین اویسی نے لگایا بڑا الزام

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔  انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کا معاملہ وزارت داخلہ کے تحت آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میپنگ ضروری ہے اور اگر یہ نہیں ہوگی تو والدین کے ناموں کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘

چھترپتی سمبھاجی نگر: اسدالدین اویسی نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ مسلمانوں کو ایک ’’منصوبہ بند ایجنڈے‘‘ کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) جیسے معاملات کو نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (NPR) سے جوڑا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے میپنگ کو لازمی قرار دیا ہے اور اگر میپنگ نہیں کی جاتی تو والدین کے ناموں کی بنیاد پر یہ عمل انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ ایپ لوکیشن ٹریکنگ کے ذریعے کام کرتی ہے اور دعویٰ کیا کہ 27 لاکھ ناموں کی جانچ کے دوران 97 فیصد نام مسلمانوں کے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’مسلمانوں کو ایک منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت پھنسایا جا رہا ہے اور یہ سب نفرت کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ پورا معاملہ عدالت کے سامنے رکھا جائے گا اور کسی پر بھی الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے‘

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کا معاملہ وزارت داخلہ کے تحت آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میپنگ ضروری ہے اور اگر یہ نہیں ہوگی تو والدین کے ناموں کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘

ندا خان معاملے کا بھی دیا حوالہ

اویسی نے ندا خان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) نے واضح کیا ہے کہ ندا خان ایچ آر ملازم نہیں تھیں۔  انہوں نے الزام لگایا کہ ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ہی ان کا نام منظر عام پر لایا گیا اور حکمراں جماعت کی جانب سے میڈیا ٹرائل چلایا گیا۔ اویسی نے کہا: ’’ٹی سی ایس نے واضح کیا ہے کہ ندا خان ایچ آر ملازم نہیں تھیں۔ ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ہی ان کا نام عوام کے سامنے لایا گیا اور حکمراں جماعت نے میڈیا ٹرائل کیا۔‘‘ انہوں نے ایف آئی آر میں خاتون کے گھر سے برقع برآمد ہونے کے ذکر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اب برقع غیرقانونی ہو گیا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر کسی کے پاس پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق کتابیں یا اردو شاعری کی کتابیں ہوں تو اس میں غلط کیا ہے؟ اویسی نے کہا کہ پورا معاملہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور الزام لگایا کہ نفرت کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

1993 بمبئی دھماکوں اور دہلی فسادات کا حوالہ

اویسی نے 1993 بمبئی بم دھماکے، 2008 مالیگاؤں بم دھماکے اور 2020 دہلی فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے اہل خانہ کی حالت پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حیدرآباد کے رہائشی حسن صدیقی کو چندی گڑھ پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ ’’وندے ماترم‘‘ کے معاملے پر اویسی نے کہا کہ اس موضوع پر رابندرناتھ ٹیگور اور سبھاش چندر بوس کے درمیان خط و کتابت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ آنند مٹھ میں شامل ہے۔ اویسی نے مزید کہا کہ جب ہندوستانی آئین اور اس کے دیباچے کی تیاری ہو رہی تھی تو اسے دیوی دیوتاؤں کے نام سے شروع کرنے کی تجاویز دی گئی تھیں، لیکن انہیں قبول نہیں کیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read