Bankra Mosque Restrictions: کولکاتا کی 130 برس قدیم بانکڑا مسجد کو ہوائی اڈے کے احاطے سے منتقل کرنے کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کا سخت احتجاج
یہ احتجاج اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ریاستی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے 130 سال سے زائد قدیم بانکڑا مسجد کو ہوائی اڈے کے احاطے سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعیۃ علماء ہند (مغربی بنگال) کے صدر صدیق اللہ چودھری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’آج بھارت کے لیے یوم سیاہ ہے۔‘‘
Minister Against Minorities: مسلمانوں کے اقلیتی درجہ سے متعلق بیان پر تنازع، اسدالدین اویسی کا کرن رجیجو پر سخت حملہ، کہا-’’اقلیتوں کے نہیں بلکہ اقلیت مخالف وزیر ہیں رجیجو‘‘
یہ تنازع اس مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا جس میں کرن رجیجو نے مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت کا موازنہ پارسی برادری سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن سکتی ہے، جبکہ پارسیوں کی تعداد محض تقریباً 53 ہزار ہے۔
’’منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ، ندا خان معاملے میں حکمراں جماعت نے کیا میڈیا ٹرائل‘‘ اسدالدین اویسی نے لگایا بڑا الزام
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کا معاملہ وزارت داخلہ کے تحت آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میپنگ ضروری ہے اور اگر یہ نہیں ہوگی تو والدین کے ناموں کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘
Jamat-E-Islami Hind: آسام میں مسلمانوں کو بے گھر اور مکانوں کو بلڈوز کرنے کی کارروائی کو فوری طور سے بند کیا جائے: ملک معتصم خان
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے آسام میں مذہبی بنیادوں پر مسلم بستیوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کی شدید مذمت کی ، حکومت سے انصاف اور آئینی اصولوں کی پاسداری کا کیا مطالبہ
Association for Protection of Civil Rights (APCR): وارانسی کے تاریخی علاقے “دال منڈی” کے انہدام پر الہٰ آباد ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل
دال منڈی، جو وارانسی کے قلب میں واقع ایک تاریخی بازار ہے، اپنی ثقافتی ہم آہنگی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے، جہاں 10 ہزار سے زائد دکانیں قائم ہیں
Dehradun Waqf land case: درگاہ پر ہوئی بلڈوزر کارروائی سے متعلق سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت کو بھیجا نوٹس
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’





