Bharat Express DD Free Dish

Association for Protection of Civil Rights (APCR): وارانسی کے تاریخی علاقے “دال منڈی” کے انہدام پر الہٰ آباد ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل

دال منڈی، جو وارانسی کے قلب میں واقع ایک تاریخی بازار ہے، اپنی ثقافتی ہم آہنگی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے، جہاں 10 ہزار سے زائد دکانیں قائم ہیں

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے الہٰ آباد ہائی کورٹ سے وارانسی کے دال منڈی علاقے میں مجوزہ انہدام کے خلاف کامیابی کے ساتھ اسٹے آرڈر حاصل کر لیا ہے، جو کہ سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت کیا جا رہا تھا۔

دال منڈی، جو وارانسی کے قلب میں واقع ایک تاریخی بازار ہے، اپنی ثقافتی ہم آہنگی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے، جہاں 10 ہزار سے زائد دکانیں قائم ہیں، جن میں اکثریت مسلم تاجروں کی ہے۔ اب یہ علاقہ حکومت کے شہری ترقیاتی منصوبے، بالخصوص کاشی وشو ناتھ کوریڈور سے منسلک سڑک کی توسیع کے منصوبے کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں اور نسلوں سے قائم روزگار متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

عرضی گزار اے پی سی آر نے عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ، وارانسی کے افسران کی جانب سے دکان خالی کرنے اور ملکیت حکومت کو حوالے کرنے کے لیے دباؤ اور دھمکی دی جا رہی ہے، جب کہ قانونی طور پر نہ تو زمین کا حصول کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔

معروف سینئر وکیل سید فرمان احمد نقوی، جنہوں نے APCR کی جانب سے کیس کی پیروی کی، انہوں نے عدالت میں دلیل دی کہ جب تک حکومت قانونی طور پر جائیداد حاصل نہ کرلے، تب تک کسی بھی طرح کی بے دخلی یا انہدام پوری طرح سے غیر قانونی عمل ہے۔ ریاستی وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ جب تک ملکیت کا قانونی حصول نہیں ہوجاتا، نہ تو دکان خالی کروائی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کا انہدام کیا جائے گا۔

جسٹس سلیل کمار رائے اور جسٹس ارون کمار سنگھ دیسوال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عرضی گزار اے پی سی آر کے حقوق کا تحفظ کیا۔

واضح رہے کہ یہ حکم دال منڈی کے مقامی تاجروں اور رہائشیوں کے لیے بڑی راحت ہے، جو قانونی کارروائی کے بغیر جبری بے دخلی اور انہدام کے خدشات کا سامنا کر رہے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read