Bharat Express DD Free Dish

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار کیے جائیں گے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قدرتی طریقوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی غور ہوگا

انڈمان اور نکوبار جزائر کو سیاحت کے اعتبار سے مزید پرکشش اور محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع وژن ڈاکیومنٹ تیار کیا جائے گا۔ اس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قدرتی طریقوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں گی اور ان کی آرا کی بنیاد پر مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ انڈمان اور نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر، سابق راجیہ سبھا رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے لکھنؤ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک مذاکرے کے دوران یہ بات کہی۔ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈروکاربن انرجی اینڈ جیو ریسورسز کے زیر اہتمام انڈمان نکوبار میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر مذاکرہ منعقد کیا گیا تھا۔

836 جزائر کے سیاحتی امکانات کو نئی سمت دینے کی تیاری

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان سیاحت کے اعتبار سے انتہائی اہم خطہ ہے۔ سمندر کے درمیان واقع 836 جزائر پر مشتمل اس خطے میں سیاحوں کو راغب کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دی جائے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں، تاکہ سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی سلامتی بھی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انڈمان کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سیاحتی مراکز تیار کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی ورکشاپس کا ایک سلسلہ منعقد کیا جائے گا۔ ان ورکشاپس میں سامنے آنے والی تجاویز اور اہم نکات کو وژن ڈاکیومنٹ میں شامل کیا جائے گا۔

موسمیاتی تبدیلی سے مینگروو جنگلات کو خطرہ

ڈاکٹر شرما نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں تقریباً ڈیڑھ ڈگری اضافے کے باعث کئی طرح کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سمندر کی سطح بلند ہونے سے نشیبی ساحلی علاقوں میں موجود مینگروو جنگلات کو بھی خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یہ جنگلات سمندری ساحلوں کو کٹاؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سائنسی ماہرین اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی تجاویز کو وژن ڈاکیومنٹ میں شامل کیا جائے گا، تاکہ مستقبل کے لیے زیادہ مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔

بیئرن جزیرے کے آتش فشاں اور قدرتی آفات پر بھی توجہ

ڈاکٹر دنیش شرما نے بیئرن جزیرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہندوستان کا واحد فعال آتش فشاں موجود ہے۔ فی الحال سیاحوں کو اس جزیرے پر جانے کی اجازت نہیں ہے، تاہم آتش فشاں سے خارج ہونے والی نقصان دہ گیسوں اور دیگر سرگرمیوں کے آس پاس کے سمندری حیات پر ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری ضروری ہے۔ مذاکرے کے دوران سونامی اور زلزلے کے خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین ارضیات اور سائنس دانوں نے کہا کہ ان قدرتی آفات سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید درست اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ سمندر سے گھرے ہونے کی وجہ سے انڈمان نکوبار میں زیر زمین پانی کے کھارے پن اور شدید حبس جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔

طبی سہولیات میں بھی توسیع کا منصوبہ

ڈاکٹر شرما نے کہا کہ آنے والے وقت میں انڈمان میں طبی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی، تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کو بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ مذاکرے میں موجود سائنس دانوں نے انڈمان نکوبار کی جغرافیائی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے مختلف چیلنجز کی نشاندہی کی اور ان سے نمٹنے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں۔ پروگرام میں لکھنؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جے پی سینی، شعبہ حیوانیات کی سربراہ ڈاکٹر امیتا کَنوجیا، سینئر آچاریہ اور پروگرام کنوینر ڈاکٹر دھرو سین سنگھ، تعمیراتی شعبے کے سپرنٹنڈنٹ پروفیسر وِنےت ورما، پروفیسر پُنیت ورما، پروفیسر منیشا بنرجی، پروفیسر سی آر گوتم سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read