Bharat Express DD Free Dish

Governor

وزیر اعظم نریندر مودی نے وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے قافلے میں شامل گاڑیوں کی تعداد آدھی کر دی ہے۔ انہوں نے وزراء اور عوامی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے موجودہ وسائل کا بہتر استعمال کریں۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

انتخابات ہارنے کے باوجود ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ریاست میں پیدا ہونے والے اس ’آئینی بحران‘ کے درمیان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے گورنر کو پولیس فورس بھیج کر انہیں عہدے سے ہٹانے کا جو قانونی راستہ تجویز کیا ہے، اس نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ گورنر کے خطبے کو سنے بغیر ہی اس میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف آئینی وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ جمہوریت کی روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے اور احتجاج اپوزیشن کا آئینی حق ہے، مگر اس کا اظہار شور شرابے اور ایوان کی کارروائی روک کر نہیں بلکہ مہذب بحث، ٹھوس دلائل اور حقائق کے ذریعے ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد پر تمل ناڈو حکومت نے ان دس قوانین کو مطلع کر دیا ہے جو گورنر آر این روی کے ذریعہ روکے گئے تھے۔

جنرل وی کے سنگھ سابق بھارتی آرمی چیف اور مرکزی وزیر نے ایک تقریب میں گورنر کے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔

تمل ناڈو میں وزیر اعلی اور گورنر کے درمیان قومی ترانے کو لے کر شروع ہونے والی کشیدگی اب بڑھ رہی ہے۔ سی ایم اسٹالن نے اسمبلی اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعہ کو بچگانہ قرار دیا تھا۔

وزیراعلیٰ اروند کجریوال 23 مئی کو سی ایم ممتابنرجی،24 مئی کو ادھو ٹھاکرے اور 25 مئی کو این سی پی چیف شرد پوار سے ملاقات کرکے حمایت کی اپیل کریں گے

سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت کے اسمبلی کا سیشن بلانے سے گورنر کے ذریعہ روکنے کے خلاف عرضی دائر کی گئی تھی، جس پر سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج ایس عبدالنذیر کو آندھرا پردیش کا گورنر بنایا گیا ہے۔ اس پر اپوزیشن، مرکزی حکومت کو گھیرتا ہوا نظرآیا۔ کانگریس اورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر نے اس کے خلاف ناراضگی ظاہرکی۔