وزیر اعظم نریندر مودی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت اور طرز زندگی کا ایک لازمی حصہ رہی ہے اور اب یہی سوچ ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کے مستقبل کو شکل دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مرکزی وزیر ٹیکسٹائل گری راج سنگھ کے ایک مضمون کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ٹیکسٹائل صنعت میں ہو رہی تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ آج فیشن کی دنیا میں ری سائیکلنگ، صاف ستھری پیداوار اور گرین ٹیکنالوجی جیسے تصورات تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ بھارتی ٹیکسٹائل صنعت بھی ان طریقوں کو اپناتے ہوئے عالمی بازار میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پرانے یا بے کار کپڑوں کو پھینکنے کے بجائے انہیں ری سائیکل کرکے نئی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔ اس سے فضلہ کم کرنے اور ایک ایسی ’سرکلر اکانومی‘ کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے جس میں وسائل کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے مضمون میں بھی ٹیکسٹائل ری سائیکلنگ، صاف ستھری پیداوار اور گرین ٹیکنالوجی کو زیادہ مسابقتی اور سرکلر ٹیکسٹائل صنعت کی تعمیر سے جوڑا گیا ہے۔
معاشی ترقی اور ماحولیات ساتھ ساتھ
حکومت کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر میں فائبر، یارن، فیبرک، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور ملبوسات سمیت مختلف شعبوں میں ماحول دوست طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر ٹیکسٹائل گری راج سنگھ کے مطابق ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت 26-2025 میں تقریباً 190 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور 2030 تک اسے 350 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتا ہے۔ وزارت ٹیکسٹائل کے مطابق اس شعبے میں اس وقت 5.3 کروڑ سے زیادہ افراد کو براہ راست روزگار حاصل ہے اور اگلے تین برسوں میں تقریباً 2 کروڑ مزید روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔ ملک کی گھریلو ٹیکسٹائل مارکیٹ بھی 15-2024 کے تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 16 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو چکی ہے، جو اس شعبے کی توسیع کو ظاہر کرتی ہے۔
2030 تک 350 ارب ڈالر کا ہدف
حکومت نے ٹیکسٹائل صنعت کے لیے 2030 تک 350 ارب ڈالر کے حجم کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، پائیداری، برآمدات اور پوری ویلیو چین کو مضبوط کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



