Bharat Express DD Free Dish

Constitutional Rights

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کی بات کرنا آئینی ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ وزیر اعظم کی 2013 کی ایک پرانی تقریر بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے عوام حکومت کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ حکومت بھول گئی ہے کہ جمہوریت عوام کی، عوام کے ذریعے حکمرانی کا نظام ہے۔‘‘

سی جے پی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا اس کا مطالبہ برقرار ہے اور وہ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کرتی رہے گی۔ پارٹی نے کہا کہ وہ انتخابی جواب دہی کے مطالبے سے دست بردار نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تاریخی احتجاجی مقام کو فہرست سے ہٹائے جانے کو پُرامن جمہوری جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کی وجہ بننے دے گی۔

سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی، غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت ضروری۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’

وقف بورڈ مبینہ طور پر ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد ہندوستان میں تیسرا سب سے بڑا اراضی رکھنے والا ہے۔ وقف بورڈ پورے ہندوستان میں 9.4 لاکھ ایکڑ پر پھیلی 8.7 لاکھ جائیدادوں کو کنٹرول کرتا ہے، جس کی قیمت 1.2 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں دو شیعہ وقف بورڈ سمیت 32 وقف بورڈ ہیں۔ ریاستی وقف بورڈ کا کنٹرول تقریباً 200 افراد کے ہاتھ میں ہے۔