Bharat Express DD Free Dish

Constitutional Rights

جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی، غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت ضروری۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’

وقف بورڈ مبینہ طور پر ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد ہندوستان میں تیسرا سب سے بڑا اراضی رکھنے والا ہے۔ وقف بورڈ پورے ہندوستان میں 9.4 لاکھ ایکڑ پر پھیلی 8.7 لاکھ جائیدادوں کو کنٹرول کرتا ہے، جس کی قیمت 1.2 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں دو شیعہ وقف بورڈ سمیت 32 وقف بورڈ ہیں۔ ریاستی وقف بورڈ کا کنٹرول تقریباً 200 افراد کے ہاتھ میں ہے۔