Bharat Express DD Free Dish

Justice Surya kant

جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید کی ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی تصویر میں جسٹس سوریہ کانت سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ اگر کوئی برادری آئی اے ایس، آئی پی ایس افسران، چیف جسٹس، صدر یا وزیر اعظم پیدا کر چکی ہے تو پھر اس کے باوجود پسماندہ رہنے کے لیے برہمنوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے خود نظم و ضبط بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے عدالت کی غیر جانبدارانہ انداز میں معاونت کرنے کی اپیل کی۔ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ عدالت کی معاونت کرے گی۔

ہریانہ کے روہتک میں واقع مہارشی دیانند یونیورسٹی (ایم ڈی یو) کے سنہری جوبلی اور سابق طلبہ اعزازی تقریب میں بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہفتہ کے روز اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے واضح اہداف، سخت محنت، نظم و ضبط اور پختہ عزم ضروری ہیں۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ضمانت سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی سے وابستہ معاملات کو طویل مدت تک مؤخر کرنا آئینی روح کے خلاف ہے اور ایسی روش اب قابل قبول نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی شناخت سمجھی جانے والی تاریخی سکھنا جھیل کی بگڑتی حالت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے نہایت سخت الفاظ میں کہا، ’’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘‘۔

سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کو تاحیات قانونی تحفظ فراہم کرنے والے الیکشن قانون 2023 کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔

اتراکھنڈ میں جنگلاتی اراضی پر بڑھتے ہوئے غیر قانونی قبضوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور متعلقہ افسران کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک اور حیران کن ہے کہ حکام اپنی آنکھوں کے سامنے جنگلاتی زمین پر قبضوں کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔

سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس بی آر گوائی پر ایک وکیل کی جانب سے جوتا پھینکنے کے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے رہنما اصول (گائیڈ لائنز) جاری کرنے کی ضرورت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔

پیگاسس جاسوسی معاملے میں انہوں نے ماہرین پر مشتمل سائبر کمیٹی بنانے کا فیصلہ سنانے والی بنچ میں حصہ لیا۔جسٹس سوریہ کانت کی حالیہ تقرری کو عدالتی اصلاحات، شفافیت اور صنفی مساوات کے فروغ میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔