Bharat Express DD Free Dish

CJI Surya Kant On Sukhna Lake: ’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘- بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت پر سی جے آئی جسٹس سوریہ کانت کی سخت برہمی

سپریم کورٹ آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی شناخت سمجھی جانے والی تاریخی سکھنا جھیل کی بگڑتی حالت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے نہایت سخت الفاظ میں کہا، ’’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘‘۔

نئی دہلی/چنڈی گڑھ: سپریم کورٹ آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی شناخت سمجھی جانے والی تاریخی سکھنا جھیل کی بگڑتی حالت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے نہایت سخت الفاظ میں کہا، ’’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘‘ عدالت نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات، بلڈر مافیا اور سرکاری افسران کی ملی بھگت نے اس قدرتی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وِپُل پنچولی پر مشتمل بنچ نے ٹی این گودا برمن کیس کی سماعت کے دوران سکھنا جھیل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ پنجاب اور ہریانہ میں سیاسی سرپرستی اور نوکرشاہی کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں، جن کا براہِ راست اثر سکھنا جھیل کے وجود پر پڑ رہا ہے۔ چیف جسٹس نے زبانی ریمارکس میں کہا کہ بلڈر مافیا ہر جگہ سرگرم ہیں اور انتظامیہ آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ سکھنا جھیل کے اطراف میں ہو رہی تعمیرات اور تجاوزات نے پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث جھیل آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ نجی ڈیولپرز اور دیگر مفاد پرست عناصر کے اشارے پر سب کچھ ہو رہا ہے اور ماضی کی غلطیوں کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت اور متعلقہ حکام کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ماحولیاتی نقصان ناقابلِ تلافی ہو جائے گا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ سکھنا جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں بلکہ چنڈی گڑھ کی پہچان اور عوامی ورثہ ہے، جس کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقامی انتظامیہ کی خاموشی اور لاپروائی نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ سخت آبزرویشن نہ صرف ریاستی حکومتوں بلکہ بلدیاتی اداروں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ آئندہ سماعتوں میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read