Supreme Court: ’سپریم کورٹ کو کوئی ڈرا نہیں سکتا‘، احتجاجی مارچ معاملے پر چیف جسٹس کا دوٹوک موقف، مرکز اور دہلی پولیس کو نوٹس
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے سپریم کورٹ کے احاطے کے باہر حال ہی میں نکالے گئے احتجاجی مارچ اور ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملات پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے جواب طلب کیا ہے اور سپریم کورٹ کے احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی سخت ہدایت بھی دی ہے۔
Rajpal Yadav Cheque Bounce Case: راج پال یادو کے طریقۂ کار پر سپریم کورٹ کی سخت ناراضگی، چیف جسٹس نے کہا- ’’حکم نہیں مانا تو اپیل کردیں گے خارج‘‘
بالی ووڈ اداکار راج پال یادو کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز رقم کی ادائیگی اور عدالتی احکامات کی تعمیل سے متعلق ان کے اب تک کے طریقۂ کار پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے راج پال یادو کو عدالتی حکم پر عمل کرنے کے لیے منگل تک آخری موقع دیا ہے۔ اس معاملے میں بدھ کے روز دوبارہ سماعت ہوگی۔
طلبا پر لاٹھی چارج کو سپریم کورٹ نے بتایا غلط، کہا- ’’پُرامن احتجاج آئینی حق، پولیس زیادتی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے‘‘
سپریم کورٹ نے پیپرلیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج پرتبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پُرامن احتجاج کا حق آئینی طورپرمحفوظ ہے اورپولیس کے لاٹھی چارج کومحض احتجاج کی بنیاد پرجائزقرارنہیں دیا جا سکتا۔ پولیس کی زیادتیوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے۔
دہلی میں 16 میٹرو اسٹیشن بند ہونے کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، چیف جسٹس نے مداخلت کرنے سے متعلق کہی یہ بڑی بات
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدروکاس سنگھ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ کے سامنے دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کئے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ وکاس سنگھ نے کہا کہ وکلا اور رجسٹری عملے کی اسکریننگ کی جا سکتی ہے، لیکن اسٹیشن بند ہونے سے عدالتی کام متاثر ہو رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگرلنچ تک اسٹیشن کھولنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا توعدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے۔
ایس آئی آر پر 23 پارٹیوں کا چیف جسٹس آف انڈیا کو خط، ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن کا دعویٰ- ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی نے بھی کئے دستخط
انڈیا الائنس کی اتحادی پارٹیوں نے ایس آئی آراورالیکشن کمیشن سے متعلق دیگرمسائل کے حوالے سے چیف جسٹس آف انڈیا کوایک مشترکہ خط بھیجا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 23 پارٹیاں یقین کے اصول پرمضبوطی سے کھڑی ہیں۔
CJP Conflict Reaches in SC: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ ، جعلی ڈگریوں پر عدالت میں دلچسپ تبصرہ، وکیل کے اعتراض پر چیف جسٹس نے مسکراکر کہی یہ بڑی بات
سپریم کورٹ میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP)، جعلی وکیلوں کے ریکیٹ اور عدالتی ریمارکس کے غلط استعمال سے متعلق دائر عرضی پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔
CJI Surya Kant: رات 3 بجے سونا، صبح 7 بجے اٹھنا… ساتھی جج نے بتایا کتنا کام کرتے ہیں چیف جسٹس سوریہ کانت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے عدالتی نظام میں نچلی عدالتوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ قوانین کی تشریح کرتے ہیں،
CJI Office Received 8630 Complaints Against Judges: گزشتہ 10 برسوں میں ججوں کے خلاف 8,360 شکایات ہوئیں موصول، حکومت نے لوک سبھا میں دی جانکاری
قانون و انصاف کے مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف مجموعی طور پر 8,360 شکایات موصول ہوئی ہیں۔
CJI Surya Kant On Sukhna Lake: ’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘- بلڈر مافیا اور افسران کی ملی بھگت پر سی جے آئی جسٹس سوریہ کانت کی سخت برہمی
سپریم کورٹ آف انڈیا نے چنڈی گڑھ کی شناخت سمجھی جانے والی تاریخی سکھنا جھیل کی بگڑتی حالت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے نہایت سخت الفاظ میں کہا، ’’اور کتنا سکھاؤ گے سکھنا جھیل کو؟‘‘۔
CJI Justice Surya Kant On SIR: ایس آئی آر سے متعلق بڑھتی ہوئی عرضیوں پر سپریم کورٹ کی تشویش، چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا- ”یہ معاملہ بے قابو ہو گیا ہے، بہت سارے مقدمے ہوگئے ہیں“
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل دائر ہونے والی عرضیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالیا باگچی کی بینچ نے کہا کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہو گیا ہے اور بہت ساری عرضیوں پہلے ہی دائر ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اب مجھے نہیں لگتا کہ مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق نئی عرضیوں قبول کی جانی چاہئیں۔





