نئی دہلی: اتراکھنڈ میں جنگلاتی اراضی پر بڑھتے ہوئے غیر قانونی قبضوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور متعلقہ افسران کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک اور حیران کن ہے کہ حکام اپنی آنکھوں کے سامنے جنگلاتی زمین پر قبضوں کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ جنگلاتی اراضی نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کی قدرتی وراثت ہے اور اس پر اس طرح کے ناجائز قبضے ماحولیاتی توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اس معاملے کو از خود نوٹس کے طور پر سن رہی ہے، کیونکہ یہ معاملہ عوامی مفاد اور ماحولیات کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں، جو جنگلاتی زمین پر ہوئے تمام غیر قانونی قبضوں کی مکمل جانچ کرے۔ اس کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ذمہ دار افسران اور افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ناجائز قبضے والی زمین کی کسی بھی قسم کی فروخت یا منتقلی پر مکمل پابندی رہے گی۔
عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں مزید سخت قدم اٹھاتے ہوئے جنگلاتی اراضی پر کسی بھی نئے تعمیراتی کام پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ رہائشی علاقوں کو چھوڑ کر جو بھی خالی جنگلاتی زمین ہے، اسے فوری طور پر محکمہ جنگلات اپنے قبضے میں لے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہاں بلڈوزر نہیں بلکہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ جنگلاتی زمین پر قبضہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ نجی افراد یا نجی اداروں کی جانب سے جنگلاتی علاقوں کا تجارتی یا غیر قانونی استعمال نہ صرف آئینی دفعات کی خلاف ورزی ہے بلکہ ماحولیاتی قوانین اور عوامی مفاد کے بھی منافی ہے۔ عدالت نے اس بات کے واضح اشارے دیے کہ اس معاملے میں ذمہ دار افراد کی جوابدہی طے کی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی اگلی سماعت 29 دسمبر کو مقرر کی ہے، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی پیش رفت اور ریاستی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


