نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج کے طریقے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر اگلے ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ کثیر رکنی آئینی ادارے کے طور پر الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات کا استعمال قانون کے تحت طے شدہ اجتماعی فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔ سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملے کی جلد سماعت کی درخواست پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی دفعات کے مطابق کثیر رکنی کمیشن کے فیصلے متفقہ طور پر یا ارکان کی اکثریت کی بنیاد پر لیے جانے چاہئیں۔ بہار کے رہائشی درخواست گزار راکیش کمار سنگھ نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ عرضی دائر کی ہے۔ اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی گزار کا موقف ہے کہ کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے چیف الیکشن کمشنر انفرادی طور پر ان اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتے جو آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن کو بحیثیت ادارہ حاصل ہیں۔
دو الیکشن کمشنروں کے 14 اعتراضات کا حوالہ
عرضی میں اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے مبینہ طور پر درج کیے گئے کم از کم 14 اعتراضات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان اعتراضات میں الزام ہے کہ کمیشن کی منظوری کے بغیر اس کے نام سے خطوط اور مواصلات جاری کیے گئے، ایک سال سے زیادہ عرصے تک اجلاسوں کے ایجنڈے اور کارروائی کی تفصیلات ارکان کے درمیان تقسیم نہیں کی گئیں اور انتخابی فہرستوں کے نظام میں دونوں کمشنروں کی شرکت یا منظوری کے بغیر تبدیلیاں کی گئیں۔ عرضی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران فارم 6 میں کی گئی تبدیلی کو بھی اہم معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر کمشنر وویک جوشی نے اعتراض کیا تھا کہ ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960 میں ترمیم کیے بغیر فارم میں ایس آئی آر سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی شرط شامل نہیں کی جاسکتی۔ بعد میں سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی اس اعتراض کی تائید کی۔ تاہم، عرضی کے مطابق، متعلقہ خانہ جولائی 2026 میں فارم میں شامل کردیا گیا۔ سندھو نے بعد میں مبینہ طور پر اس تبدیلی کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔
انتخابی ڈیٹا بیس اور افسران کی رسائی پر بھی سوال
عرضی میں انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا بیس کو مبینہ طور پر مرکزی سطح پر مرتکز کرنے اور قانونی طور پر مجاز فیلڈ افسران کی ERONet/ECINet تک رسائی کے معاملات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ عرضی کے مطابق، وویک جوشی نے ڈیٹا بیس تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے اسناد اور اجازتوں کے آزادانہ آڈٹ کی تجویز دی تھی۔ دوسری جانب، سکھبیر سنگھ سندھو نے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی) کے اس اختیار پر سوال اٹھایا تھا جس کے تحت قانونی طور پر مجاز انتخابی افسران کی رسائی محدود کی جاسکتی ہے۔ ایک اور معاملہ مغربی بنگال کی اپیلیٹ ٹریبونلز میں الیکشن کمیشن کے نام سے دائر کی گئی اپیلوں سے متعلق ہے۔ یہ اپیلیں ان ووٹروں کے خلاف تھیں جن کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی ہدایت عدالتی افسران نے دی تھی۔ عرضی کے مطابق، سندھو نے سوال اٹھایا تھا کہ ان اپیلوں کو دائر کرنے کی منظوری کس نے دی اور اس کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کیا گیا۔
ٹی این سیشن مقدمے کے فیصلے کا حوالہ
عرضی گزار نے دلیل دی ہے کہ آئین کا آرٹیکل 324 انتخابی اختیارات ’’الیکشن کمیشن‘‘ کو دیتا ہے، نہ کہ چیف الیکشن کمشنر کو انفرادی طور پر۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے 1995 کے آئینی بنچ کے فیصلے ٹی این سیشن بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کثیر رکنی الیکشن کمیشن میں دیگر الیکشن کمشنروں کے فیصلہ سازی کے اہم کردار کو تسلیم کیا گیا تھا۔ عرضی میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کے ایکٹ، 2023 کی دفعہ 18 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق، جہاں تک ممکن ہو، کمیشن کے معاملات اتفاق رائے سے طے کیے جانے چاہئیں اور ارکان کے درمیان اختلاف کی صورت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
فارم 6 میں مزید تبدیلی روکنے کی درخواست
عرضی گزار نے کمیشن کے اصل ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست کی ہے، جن میں اجلاسوں کے ایجنڈے، کارروائی کی تفصیلات، منظوری سے متعلق دستاویزات، فائل نوٹنگز، کام کی تقسیم کے احکامات اور آئی ٹی سسٹم تک رسائی کے ریکارڈ شامل ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر الزامات کو غیر قانونی کارروائی کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کرکے یہ طے کیا جائے کہ متنازع اقدامات آئین کے آرٹیکل 324 اور ایکٹ کی دفعہ 18 کے مطابق مجاز طریقے سے کیے گئے تھے یا نہیں۔ عبوری راحت کے طور پر انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا اور اس سے متعلق آڈٹ ریکارڈ محفوظ رکھنے، فارم 6 میں مزید اہم تبدیلیاں روکنے اور مقدمے کے فیصلے تک انتخابی ڈیٹا میں ناقابلِ تلافی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن کے نام سے کوئی خط، حکم، ہدایت یا اپیل اس وقت تک جاری نہ ہو جب تک اس پر اتفاق رائے یا ضرورت پڑنے پر اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کیا گیا ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

