Delhi’s Jantar Mantar de-notification: کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا دہلی پولیس کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے؟
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود اور منظم مظاہروں کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی۔ اب رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات مقرر کیے جانے پر قانونی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
SC agrees to hear plea against ECI: سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے خلاف عرضی پر سماعت کے لیے تیار، چیف الیکشن کمشنر پر اختیارات تنہا استعمال کرنے کا الزام
عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔
Meenakshi Natarajan’s plea: میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ نے کی خارج
نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کر کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
Did not expect this from CM Fadnavis: مہاراشٹر حکومت کے مراٹھا ریزرویشن فیصلے پر چھگن بھجبل ناراض، کورٹ جانے کا اعلان، کہا- ’’سی ایم فڑنویس سے ایسی امید نہیں تھی‘‘
مراٹھا سماج کو ’’کنبی‘‘ ذات کا درجہ دینے کے اعلان کے ساتھ مراٹھا ریزرویشن کی مانگ پوری ہوگئی۔ چونکہ ’کنبی‘ ذات پہلے سے ہی او بی سی میں شامل ہے، اس لیے مراٹھا برادری کو اب تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن کا فائدہ مل سکے گا۔
Tejashwi trapped in voter ID controversy: ووٹر آئی ڈی تنازع میں پھنسے تیجسوی یادو! دو شناختی کارڈ پر الیکشن کمیشن نے طلب کیا جواب، بڑھ سکتی ہے مشکل؟
ایسی صورت میں جب الیکشن قریب ہیں اور تیجسوی یادو اپوزیشن کے نمایاں چہرے کے طور پر سرگرم ہیں، یہ تنازعہ ان کی انتخابی اہلیت اور سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اب نظر اس بات پر ہے کہ تیجسوی یادو وضاحت دے کر معاملہ سلجھاتے ہیں یا یہ تنازع انہیں مزید مشکلات میں ڈال دے گا۔
Excise policy case: ایکسائز پالیسی کیس میں اروند کیجریوال ہائی کورٹ پہنچے، راؤز ایونیو کورٹ نے سمن کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کی تھی
ہماری حکومت کو جتنا کام کرنے سے روکا گیا، اس کے باوجود ہم نے دہلی میں بڑے کام کیے۔ میرے خیال میں تو مجھے گورننس اور ایڈمنسٹریشن پر نوبیل پرائز ملنا چاہیے کہ میں نے ایل جی کی موجودگی میں اتنے کام کر ڈالے





