Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے گئے اہم سوالات پر غور کرکے فیصلہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک تمام ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر عبوری روک لگائی جائے۔

راہل گاندھی کی قیادت میں ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما احتجاج میں شامل۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عرضی، 10 رہنما سپریم کورٹ میں کریں گے دستخط۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے دفتر نے ان کے بیان کی تردید نہیں کی۔  انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو کہا کہ اپوزیشن آکاشوانی بھون کے احاطے میں اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کو اس مظاہرے سے ’’دقت‘‘ ہے تو اسے احتجاج کے لیے کوئی متبادل جگہ فراہم کرنی چاہیے۔

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت۔ احتجاج سے قبل سنجے راؤت نے کہا کہ یہ احتجاج جمہوری اداروں، انتخابی عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف اجتماعی ردعمل ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں عبادت گاہوں کو باربار نشانہ بنائے جانے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اورپُرامن عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کارپرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑناموں کوووٹرفہرستوں سے باہرکردیا گیا ہے۔

ایک پوسٹر پر لکھا ہے، ’انڈیا الائنس کا دوغلا پن، جیتے تو ای سی آئی کو تالی، ہارے تو ای سی آئی کو گالی‘۔اس میسج کے ذریعے اپوزیشن پر الیکشن کمیشن کے حوالے سے مبینہ طور پر الگ الگ موقف اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پوسٹرز میں اپوزیشن لیڈروں کی تصاویر کے ساتھ الیکشن کمیشن، ای وی ایم اور انتخابی عمل سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔

دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 97.5 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل، دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کئے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہ رکھنا اور کسی بھی نا اہل شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔