Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

ایک پوسٹر پر لکھا ہے، ’انڈیا الائنس کا دوغلا پن، جیتے تو ای سی آئی کو تالی، ہارے تو ای سی آئی کو گالی‘۔اس میسج کے ذریعے اپوزیشن پر الیکشن کمیشن کے حوالے سے مبینہ طور پر الگ الگ موقف اختیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پوسٹرز میں اپوزیشن لیڈروں کی تصاویر کے ساتھ الیکشن کمیشن، ای وی ایم اور انتخابی عمل سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

عرضی گزار نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ گیانیش کمار کو عبوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روکا جائے اور کمیشن کے معاملات باقی دونوں الیکشن کمشنروں کے ذریعے چلانے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں بنیادی طور پر عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ آرٹیکل 324 کے تحت اختیارات کا استعمال دفعہ 18 کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کو اجتماعی طور پر کرنا چاہیے۔

دہلی میں 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً 97.5 لاکھ نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل، دعوے اور اعتراضات 30 ستمبر تک داخل کئے جا سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہ رکھنا اور کسی بھی نا اہل شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق انتخابی عمل یکم جون سے شروع ہوگا۔ اسی دن سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے، جبکہ 9 جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امیدوار 11 جون تک اپنے نام واپس لے سکیں گے۔

ملک کی 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ، تصدیق اور اپڈیٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مزید شفاف، درست اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر شامل ہو سکے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

انتخابات ہارنے کے باوجود ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ریاست میں پیدا ہونے والے اس ’آئینی بحران‘ کے درمیان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے گورنر کو پولیس فورس بھیج کر انہیں عہدے سے ہٹانے کا جو قانونی راستہ تجویز کیا ہے، اس نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔

حادثہ کے دوران لوگوں اورسیکورٹی اہلکاروں کے درمیان بھی کافی دیرتک بحث ہوتی رہی۔ حالانکہ حالات قابومیں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن علاقے میں کشیدگی بنی رہی۔ مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کی 294 سیٹوں کے لئے ووٹنگ 23 اپریل اور29 اپریل کودومرحلوں میں ووٹنگ ہوئی ہے۔ اب ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہونی ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کے بارے میں ملیکارجن کھڑگے کے"دہشت گرد" والے ریمارک نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کوسنجیدگی سے لیا ہے اور ملیکا ارجن کھڑگے کونوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندرجواب طلب کیا ہے۔