Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

اس معاملے کی شکایت الند کے رکن اسمبلی بی آر پاٹل نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقے کے 256 پولنگ بوتھوں پر تقریباً 6,670 ووٹروں کے نام غیر قانونی طور پر حذف کیے گئے۔

راہل  گاندھی نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ناگ راج نامی شخص کے دو فارم صرف 36 سیکنڈ میں بھر دیے گئے، وہ بھی دوسرے ریاست کے فون نمبر سے۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سارا عمل ہیک کیا جا رہا ہے اور اس میں مقامی لوگ نہیں بلکہ بیرونی طاقتیں شامل ہیں۔

سی ای او دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے SIR شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور دہلی میں بھی اسی کے تحت یہ مہم چلائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، جانکاری سامنے آئی ہے کہ 15 سے 20 نومبرکے درمیان ووٹوں کی گنتی ممکن ہے۔ پورا انتخابی عمل 22 نومبرکی ڈیڈ لائن سے پہلے پوری کرلی جائے گی۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے’’ووٹرادھیکاریاترا‘‘ کی اختتامی ریلی میں بڑا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مہادیوپورہ میں’ووٹ چوری‘ کی حقیقت کوبے نقاب کیا تو ہم نے ایٹم بم گرایا، لیکن اب ہائیڈروجن بم آنے والا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروجن بم کے بعد مودی جی اس ملک کو منہ نہیں دکھا سکیں گے۔

سپریم کورٹ نے آرجے ڈی اوراے آئی ایم آئی ایم کی درخواستوں پر سماعت کی، جس میں بہارایس آئی آرمیں دعوے اوراعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کی گئی۔ عدالت نے مہلت میں توسیع نہیں کی تاہم الیکشن کمیشن کوشفافیت برقراررکھنے اور سیاسی پارٹیوں سے تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم کمیشن نے عدالت کوبتایا ہے کہ یکم ستمبرکے بعد بھی دعوے اوراعتراضات دائرکئے جاسکتے ہیں۔

بہارمیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چل رہی ووٹرلسٹ خصوصی نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آرسے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کیشن نے ہمارے مشوروں پرعمل کیا ہے۔ اس کی طرف سے حلف نامہ بھی دیا گیا ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اتر پردیش میں ضمنی انتخابات کے دوران ووٹوں کی ’ڈکیتی‘ ہوئی اور پولیس نے اس میں مدد کی۔ ہمارے پاس اس کے لیے حلف نامے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو 18 ہزار حلف نامے دیے ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن ایک پر بھی کارروائی کرتا ہے تو ایک بھی ووٹ نہیں چھوٹے گا۔

بہارمیں ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے معاملے پراپوزیشن جماعتوں نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن کونشانہ بنایا ہے۔ اجتماعی پریس کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوان کے سوالات کا جواب دینا چاہئے تھا، لیکن وہ پارٹیوں سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ حلف نامہ کا دعویٰ مسترد کئے جانے کے بعد اب موبائل میں رسید دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ اتنا ہے کہ ایک توذات کی بنیاد پربی ایل اومت لگائیے۔