ممبئی : مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی انتخابی فہرستوں میں 96 لاکھ جعلی ووٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات الیکشن کمیشن پر لگائے گئے ہیں۔ٹھاکرے کے مطابق، یہ معلومات انہیں قابل اعتماد ذرائع سے ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی کو ووٹر لسٹ منجمد ہونے کے بعد یہ جعلی نام شامل کیے گئے۔ ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ جعلی ووٹرز ممبئی، پونے، ناسک اور تھانے جیسے بڑے شہروں میں شامل کیے گئے ہیں۔ ہر شہر میں تقریباً آٹھ سے ساڑھے آٹھ لاکھ جعلی نام درج کیے گئے ہیں۔ یہ بے ضابطگیاں ہر شہر اور گاؤں کی فہرستوں میں پائی گئی ہیں۔
راج ٹھاکرے نے حکمران جماعت کے ردعمل پر بھی سوال اٹھائے
راج ٹھاکرے نے حکمران جماعت کے ردعمل پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن پر سوال اٹھانے پر حکمران کیوں پریشان ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ یہی لوگ پہلے بھی ایسے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کو خبردار کیا تھا۔ ٹھاکرے نے حکمران جماعت کی جلد بازی پر بھی سوال اٹھایا۔ایم این ایس سربراہ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک ووٹر لسٹوں کی مکمل تصدیق نہ ہو، مقامی بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس میں ایک سال بھی لگے تو کوئی حرج نہیں۔ ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ جب تک فہرستیں درست نہیں ہو جاتیں، مہاراشٹر میں انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق، حکمران جماعت جلدی میں ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی جعلی ووٹرز شامل کر رکھے ہیں۔
چیف الیکشن آفیسر نے تحقیقات کا حکم دیا
راج ٹھاکرے کے ساتھ دیگر اپوزیشن لیڈروں نے بھی ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے، بالا صاحب تھورات اور جینت پاٹل جیسے لیڈران نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے سرور کو بیرونی عناصر ہینڈل کر رہے ہیں۔ ان شکایات کے بعد، چیف الیکشن آفیسر نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


