Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

الیکشن کمیشن نے نائب صدر عہدے کے الیکشن سے متعلق بڑی جانکاری دی ہے۔ نائب صدر کے الیکشن کے لئے 7 اگست سے 21 اگست تک پرچہ نامزدگی داخل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 25 اگست تک امیدواری واپس لئے جاسکتے ہیں۔ ووٹنگ کی تاریخ 9 ستمبر متعین کی گئی ہے۔

بہارکی ووٹرلسٹ ریویژن (ایس آئی آر) کے معاملے پرسپریم کورٹ نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ آدھارکارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو نامزدگی کے لیے درست دستاویزات کے طورپرتسلیم کرے۔ عدالت نے ڈرافٹ ووٹرلسٹ کی اشاعت پرپابندی لگانے سے بھی انکارکردیا۔ عدالت نے کہا کہ سماعت کے شیڈول کا اعلان منگل کے روزکیا جائے گا۔

کمیشن نے کہا کہ جن اہل ووٹروں کے نام رہ گئے ہیں انھیں 1 اگست سے 1 ستمبر کے درمیان عمل کے اگلے مرحلے کے دوران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بہارمیں ووٹرلسٹ پرنظرثانی سے متعلق ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت اہل ووٹر(رائے دہندگان) اپنا نام فہرست میں شامل کروا سکیں گے۔ بہارکے لوگوں اورسیاسی پارٹیوں کوووٹرلسٹ میں اپنا نام شامل کرنے کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کوغیرجانبدارہونا چاہئے، لیکن کسی کے اشارے پرکمیشن نے اپنے طریقہ کارکو پوری طرح سے بدل لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بہار میں اب تک 5 کروڑ 74 لاکھ سے زائد فارم ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔ دو مراحل پر مشتمل گھر گھر سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1.59 فیصد ووٹرز فوت ہو چکے ہیں،

آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود سامنے نہیں آنا چاہتا، اس لئے سوتروں (ذرائع) کے حوالے سے خبرپلانٹ کررہا ہے۔ یہی وہی ذرائع ہیں، جنہوں نے لاہور اور کراچی پر قبضہ کر لیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل شفاف اور قانونی ہے، اور اس کا مقصد ووٹر لسٹوں کی درستگی کو یقینی بنانا ہے۔ بہار میں 77,895 بوتھ لیول آفیسرز گھر گھر جا کر فارم جمع کر رہے ہیں، اور 30 ستمبر 2025 تک حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔

سپریم کورٹ میں کل 11 عرضیاں سنوائی کے لئے لگی تھیں۔ ان میں این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اورپیپلزیونین سول لبرٹیزکے علاوہ کانگریس، آرجے ڈی اورٹی ایم سی جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی بھی عرضی تھی۔ عرضی گزارفریق نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن ناگرکتا یعنی شہریت کی جانچ نہیں کرسکتا۔

سپریم کورٹ نے بہارکے اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ درخواست گزارنے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے عمل پر سوالات اٹھائے، ساتھ ہی آدھارکارڈ کو تسلیم نہ کرنے پر سوال اٹھایا گیا۔