Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جہوریت میں ہر پارٹی کا اقتدار کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بی جے پی ایسی پارٹی ہے، جس پر اس کا اثرنہیں پڑتا ہے۔

ای سی آئی نے ہدایت کی کہ ان کے خلاف ’’مناسب تادیبی کارروائی‘‘ شروع کی جائے اور ’’مجرمانہ بدانتظامی‘‘ کے لیے ایف آئی آر درج کی جائے۔

بہارمیں ووٹرلسٹ کے اسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں بحث کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے کارروائی ملتوی کردی گئی۔ ڈپٹی چیئرمین اورلوک سبھا اسپیکرنے پارلیمانی ضوابط پرعمل کرنے کی اپیل کی۔ کانگریس اورڈی ایم کے نے بحث کے لئے نوٹس دیئے، جبکہ انڈیا الائنس نے احتجاج کیا۔

الیکشن کمیشن نے نائب صدر عہدے کے الیکشن سے متعلق بڑی جانکاری دی ہے۔ نائب صدر کے الیکشن کے لئے 7 اگست سے 21 اگست تک پرچہ نامزدگی داخل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 25 اگست تک امیدواری واپس لئے جاسکتے ہیں۔ ووٹنگ کی تاریخ 9 ستمبر متعین کی گئی ہے۔

بہارکی ووٹرلسٹ ریویژن (ایس آئی آر) کے معاملے پرسپریم کورٹ نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ آدھارکارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو نامزدگی کے لیے درست دستاویزات کے طورپرتسلیم کرے۔ عدالت نے ڈرافٹ ووٹرلسٹ کی اشاعت پرپابندی لگانے سے بھی انکارکردیا۔ عدالت نے کہا کہ سماعت کے شیڈول کا اعلان منگل کے روزکیا جائے گا۔

کمیشن نے کہا کہ جن اہل ووٹروں کے نام رہ گئے ہیں انھیں 1 اگست سے 1 ستمبر کے درمیان عمل کے اگلے مرحلے کے دوران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے بہارمیں ووٹرلسٹ پرنظرثانی سے متعلق ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت اہل ووٹر(رائے دہندگان) اپنا نام فہرست میں شامل کروا سکیں گے۔ بہارکے لوگوں اورسیاسی پارٹیوں کوووٹرلسٹ میں اپنا نام شامل کرنے کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کوغیرجانبدارہونا چاہئے، لیکن کسی کے اشارے پرکمیشن نے اپنے طریقہ کارکو پوری طرح سے بدل لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق بہار میں اب تک 5 کروڑ 74 لاکھ سے زائد فارم ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جا چکے ہیں۔ دو مراحل پر مشتمل گھر گھر سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1.59 فیصد ووٹرز فوت ہو چکے ہیں،

آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود سامنے نہیں آنا چاہتا، اس لئے سوتروں (ذرائع) کے حوالے سے خبرپلانٹ کررہا ہے۔ یہی وہی ذرائع ہیں، جنہوں نے لاہور اور کراچی پر قبضہ کر لیا تھا۔