Bharat Express DD Free Dish

Election Commission of India

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اورریاست کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی پولیس اورسی آرپی ایف کے ذریعہ ایس آئی آرکے کام میں حصہ لینے والے مغربی بنگال کے عدالتی افسران کو تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیران کی سیکورٹی واپس نہیں لی جائے گی۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

حیران کن طور پر فائنل ووٹر لسٹ سے 2 کروڑ 4 لاکھ 45 ہزار 300 ووٹرز کے نام حذف کیے گئے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر 84 لاکھ 28 ہزار 767 نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔

آسام کے انتخابی میدان میں اس باراہم مقابلہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے اور کانگریس کی قیادت والے اتحاد کے درمیان ہے۔ بی جے پی اپنی اتحادی پارٹیوں (اے جی پی اور یوپی پی ایل) کے ساتھ مل کرسبھی سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے۔ وہیں کانگریس کے علاوہ بھی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) اورمقامی پارٹیوں نے بھی چیلنج پیش کیا ہے۔ آزاد امیدواروں اورنئی علاقائی پارٹیوں نے کئی سیٹوں پرمقابلے کوسہ رخی بنا دیا ہے۔ حالانکہ اب تمام امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

افسران کے مطابق جن ریاستوں میں اس وقت انتخابات ہو رہے ہیں، ان کے نمائندوں کو مرکزی اجلاس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے ان ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کے ساتھ الگ سے میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کافی سرگرم ہے۔ منصفانہ الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے کمیشن نے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے بعد 4 سینئر پولیس افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کل اپنی پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی بنگال میں الیکشن پُرامن ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ چھ ریاستوں — کرناٹک، مہاراشٹر، گوا، گجرات، ناگالینڈ اور تریپورہ — میں ہونے والے اہم ضمنی انتخابات کی تاریخیں بھی جاری کر دی ہیں۔

پانچ ریاستوں میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے آج مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں انتخابات کا مکمل شیڈول جاری کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ مغربی بنگال کو چھوڑ کر باقی چار ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں ہوگی۔