نائب صدر جمہوریہ ہند سی پی رادھا کرشنن نے آج اُپ راشٹرپتی بھون میں کتاب ’’دی وائس آف جسٹس: جسٹس گوائی اسپیکس‘‘ کی رسم اجرا انجام دی۔ پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شیو کمار کی مرتب کردہ اور کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (سی ایل ای اے) کے اشتراک سے تھامسن رائٹرز کی جانب سے شائع کی گئی اس کتاب میں بھارت کے سابق چیف جسٹس، جسٹس بی آر گوائی کی تقاریر، خطابات اور تاثرات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے اس کتاب کو ایک اہم آئینی دستاویز قرار دیا، جو تجربے، آئینی نظم و ضبط اور عوامی ذمہ داری سے تشکیل پانے والی عدالتی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب آئین پسندی، قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور جمہوری طرز حکمرانی کے حوالے سے گراں قدر بصیرت فراہم کرتی ہے اور بھارت میں آئینی مباحث اور قانونی تحقیق کو مزید تقویت بخشے گی۔ کتاب میں آئین سے متعلق پیش کیے گئے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اس میں بجا طور پر بھارت کے آئین کو ایک زندہ اور ارتقا پذیر دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران تسلسل اور تبدیلی، اختیار اور جواب دہی، نیز حقوق اور فرائض کے درمیان متوازن ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین جمہوری استحکام اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے، جبکہ اس میں ترمیم کا پارلیمنٹ کا اختیار ملک کو بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے قابل بناتا ہے۔
Vice President Shri C. P. Radhakrishnan released the book “The Voice of Justice: Justice Gavai Speaks” at Uprashtrapati Bhavan today.
Addressing the gathering, the Vice-President described the book as an important constitutional document reflecting judicial thought shaped by… pic.twitter.com/BGC14LFQM8
— Vice-President of India (@VPIndia) July 14, 2026
نائب صدر نے کہا کہ آئینی طرز حکمرانی کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی پر شہریوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں عدلیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی جمہوریت میں اختیار کے ساتھ ساتھ ضبطِ نفس بھی اتنا ہی ضروری ہے اور مضبوط ادارے اور انصاف دونوں ہی ادارہ جاتی دیانت داری، آئینی نظم و ضبط، عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار سے وابستگی کے ذریعے برقرار رہتے ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آئینی طرز حکمرانی کو عام شہریوں کی امنگوں اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کے مطابق جواب دہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا ہر فرد کے لیے وقار، مواقع اور امید کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ جسٹس بی آر گوائی کی عدلیہ کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ان کا عدالتی سفر آئینی اقدار، ادارہ جاتی توازن اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر نائب صدر جمہوریہ نے قانونی برادری کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ وقتاً فوقتاً پرو بونو (بلامعاوضہ) بنیاد پر غریب ترین افراد کی قانونی نمائندگی کریں تاکہ انصاف تک ہر شخص کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔ اس تقریب میں بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت، سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج، جسٹس وکرم ناتھ، بھارت کے سابق چیف جسٹس، جسٹس بی آر گوائی، کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (سی ایل ای اے) کے صدر اور مدیر پروفیسر (ڈاکٹر) ایس شیو کمار، تھامسن رائٹرز کے ناشر گوری شنکر نٹیسن اور قانونی برادری کے متعدد ارکان نے شرکت کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


