نئی دہلی: سپریم کورٹ کی ایک ایڈوکیٹ آن ریکارڈ (اے او آر) نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر سنی جوزف اور پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے منتظمین کے خلاف فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی سے تحریری اجازت طلب کی ہے۔ ایڈوکیٹ سویتا سنگھ نے 16 اکتوبر کو دائر درخواست میں الزام لگایا کہ کانگریس کیرالہ کے تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ سے 12 اکتوبر کو شائع کی گئی پوسٹ چیف جسٹس کے لیے توہین آمیز اور دھمکی آمیز تھی اور اس سے عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ پوسٹ میں لکھا گیا تھا: ’’محترم سوریہ کانت، اگر امن و قانون برقرار رکھنا آپ کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے تو فوراً استعفیٰ دے دیجیے۔ ہم آپ کا متبادل تلاش کرلیں گے، جو اس معاملے کو سنبھال سکے۔‘‘ سویتا سنگھ نے توہینِ عدالت ایکٹ 1971 کی دفعہ 15(1)(b) اور سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی کارروائی کو منضبط کرنے والے قواعد 1975 کے ضابطہ 3(c) کے تحت اٹارنی جنرل کی تحریری رضامندی طلب کی ہے، تاکہ سپریم کورٹ میں فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکے۔
پوسٹ پر کارروائی کا مطالبہ تیز
اس معاملے میں قانونی کارروائی اور جواب دہی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ 17 اکتوبر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری مینیش دوبے نے سنی جوزف کو قانونی نوٹس بھیج کر وضاحت طلب کی تھی کہ پوسٹ کے سلسلے میں عوامی طور پر معافی کیوں نہیں مانگی گئی اور اس کی واضح مذمت کیوں نہیں کی گئی۔ چار وکلا نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور نعرے بازی کو آئینی عدالتوں کے احاطے سے دور رکھنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا ضابطہ بنایا جائے۔ درخواست گزاروں نے 12 اکتوبر کے واقعات کے سلسلے میں اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں کے خلاف عدالت کی جانب سے ازخود فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر بھی غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس روز اپوزیشن کا ایک مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) روکنے کے مطالبے کے ساتھ سپریم کورٹ کی جانب بڑھا تھا۔ اسی دوران چیف جسٹس سوریہ کانت سے استعفے کا مطالبہ کرنے والی پوسٹس بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آئی تھیں۔
کانگریس کو ملاقات کا وقت دینے سے انکار کے بعد پوسٹ
کانگریس کیرالہ کے ایکس اکاؤنٹ پر یہ پوسٹ پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی اس خبر کے ردعمل میں شائع کی گئی تھی، جس میں چیف جسٹس سوریہ کانت کے دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور قومی دارالحکومت میں عائد پابندیوں سے متعلق تبصروں کا ذکر تھا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ملاقات کا وقت مانگا تھا، تاکہ انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا جاسکے۔ تاہم، چیف جسٹس نے یہ کہتے ہوئے ملاقات سے انکار کردیا تھا کہ متعلقہ معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں اور ان پر ملاقات کے دوران گفتگو اختیارات کی علیحدگی کے اصول اور عدالتی آداب کے منافی ہوگی۔ تنقید کے بعد چیف جسٹس سے استعفے کا مطالبہ کرنے والی پوسٹ حذف کردی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کے پی سی سی صدر سنی جوزف نے کہا تھا کہ یہ پوسٹ ریاستی پارٹی قیادت کی جانکاری، رضامندی یا مشورے کے بغیر شائع کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، پوسٹ شائع کرنے کے ذمہ دار شخص کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور پارٹی اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
درخواست میں فوجداری توہینِ عدالت کا الزام
سویتا سنگھ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پوسٹ میں چیف جسٹس کو جس انداز میں مخاطب کیا گیا وہ دباؤ ڈالنے، دھمکانے اور تحقیر آمیز زبان استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، اس سے سپریم کورٹ اور ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی عہدے کے وقار کو مجروح کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو ’’محترم سوریہ کانت‘‘ کہہ کر مخاطب کرنا، پھر ’’فوراً استعفیٰ دیجیے‘‘ اور ’’ہم آپ کا متبادل تلاش کرلیں گے‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنا ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی عہدے کی علانیہ تذلیل ہے۔ درخواست گزار نے توہینِ عدالت ایکٹ کی دفعہ 2(c)(i) کا حوالہ دیا، جس کے تحت کسی عدالت کے وقار کو مجروح کرنے یا اس کے اختیار کو کم کرنے کا رجحان رکھنے والی اشاعت فوجداری توہینِ عدالت کے زمرے میں آسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ پوسٹ اس قانونی تعریف کے دائرے میں آتی ہے۔ درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بیان سے عدالتی کارروائی متاثر ہونے اور انصاف کی فراہمی کے نظام پر عوامی اعتماد کمزور پڑنے کا خدشہ ہے، بالخصوص اس لیے کہ احتجاج سے متعلق معاملات پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت تھے۔ درخواست گزار کے مطابق، کسی سیاسی جماعت کی جانب سے کسی برسرِ عہدہ چیف جسٹس کو ہٹانے یا ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو لانے کا عوامی اعلان آئینی طریقۂ کار کو نظرانداز کرنے، عدالتی افسران پر دباؤ ڈالنے اور عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ سویتا سنگھ نے آئین کے آرٹیکل 129 کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے تحت سپریم کورٹ کو اپنی توہین پر سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔
ججوں کو عہدے سے ہٹانے کے آئینی ضابطے کا حوالہ
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 124 اور 217 کا حوالہ دیتے ہوئے ججوں کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مقررہ آئینی تحفظات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ کسی برسرِ عہدہ چیف جسٹس کی جگہ دوسرا شخص لانے کا سیاسی مطالبہ آئینی طریقۂ کار کو نظرانداز کرنے کی کوشش ہے اور اس سے عدالتی افسران پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 124(4) کے مطابق، سپریم کورٹ کے کسی جج کو ثابت شدہ بدعنوانی یا نااہلی کی بنیاد پر ہی مقررہ آئینی طریقۂ کار کے تحت عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مطلوبہ خصوصی اکثریت سے قرارداد منظور ہونے کے بعد صدرِ جمہوریہ کا حکم ضروری ہے۔ سویتا سنگھ نے اٹارنی جنرل سے درخواست کی ہے کہ وہ سنی جوزف اور پارٹی کے مجاز عہدیداروں نیز سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے منتظمین کے خلاف فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے تحریری رضامندی دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے وقار اور آزادی کے تحفظ اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے اس معاملے میں کارروائی ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



