Bharat Express DD Free Dish

CEC Gyanesh Kumar

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کارکنوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ اٹھایا۔ طلبہ نے حراست میں لینے، پٹائی کرنے اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی عمل پر اعتماد نہیں رہا۔ کانگریس لیڈر نے ہریانہ اور مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر بھی سوال اٹھائے۔

انڈین مسلمز فار سول رائٹس کے چیئرمین، 51 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز کے قومی کنوینر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ 10 اکتوبر کو مختلف سماجی اور جمہوری تنظیمیں آئین، جمہوریت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے پرامن طور پر اپنی آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں، بالخصوص اقلیتی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ’انڈیا‘ بلاک کے تقریباً 300 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج، الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ سے روکے جانے کے بعد راہل اور پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈر آکاشوانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک پریس نوٹ شیئر کیا، جس میں فارم-6 سے متعلق سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا ذکر ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اب یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یک طرفہ طریقے سے ’فارم-6‘ میں تبدیلی کی ہے۔

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر فیصلے مطلوبہ اتفاق رائے کے بغیر کیے جانے کی بات ثابت ہوئی تو انہیں واپس لینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت۔ احتجاج سے قبل سنجے راؤت نے کہا کہ یہ احتجاج جمہوری اداروں، انتخابی عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف اجتماعی ردعمل ہے۔

سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے جن پتھ، راجیو چوک سمیت 11 میٹرو اسٹیشنوں پر داخلہ اور باہر نکلنے کے راستے اگلے حکم تک بند کیے، 4 اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت جاری

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر لسٹ سے ہوتا ہے۔ لسٹ میں نام درج ہے تو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، لیکن نام نہ ہو تو انتخابی عمل میں حصہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ووٹر لسٹ کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنا اور فوت شدہ، ڈپلیکیٹ یا نااہل ناموں کو ہٹانا انتخابی عمل کا ایک ضروری حصہ ہے۔

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ اب بحث صرف اگلے انتخابات یا کسی ایک انتخابی نتیجے تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کس طرح برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بھی اس معاملے کو لے کر اپنی حکمت عملی اور ردعمل طے کریں گے۔