Bharat Express DD Free Dish

Election Commission Supreme Court: ایس آئی آر پر اٹھتے سوالات کے درمیان الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ، گیانیش کمار پر اکیلے فیصلے لینے کے الزامات مسترد

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں احکامات تمام ارکان کی رضامندی سے جاری کیے گئے تھے۔ فارم 6 میں ترمیم کے الزامات پر بھی وضاحت دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ فائل پر کسی افسر کا تبصرہ یا مشورہ کمیشن کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔

نئی دہلی: ووٹر لسٹوں کی جانچ یعنی SIR کو لے کر اٹھ رہے سوالات کے درمیان الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ کمیشن نے حلف نامہ داخل کرکے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر اکیلے فیصلے لینے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR سے متعلق تینوں احکامات تمام ارکان کی رضامندی سے جاری کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی فارم 6 میں تبدیلی کے الزامات پر بھی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ فائل پر کسی افسر کا تبصرہ یا مشورہ کمیشن کا حتمی فیصلہ نہیں مانا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، جون 2025، اکتوبر 2025 اور مئی 2026 میں SIR کے حوالے سے جاری کیے گئے تینوں احکامات متفقہ طور پر منظور کیے گئے تھے۔ حلف نامے کو گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں نے منظوری دی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ فائل پر بحث کے دوران کسی کمشنر کے تبصرے، سوال یا مشورے کو کمیشن کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ فائل پہلے ایک الیکشن کمشنر، پھر دوسرے کمشنر اور آخر میں چیف الیکشن کمشنر کے پاس جاتی ہے۔ ضروری معاملات میں الیکٹرانک طریقے سے منظوری حاصل کی جاتی ہے، جسے بعد میں فائل پر درج کر دیا جاتا ہے۔

28 جولائی کے حکم پر بھی وضاحت

اس دوران کمیشن نے 28 جولائی کے ایک حکم کا بھی ذکر کیا۔ اس کے مطابق، کام کی تقسیم سے متعلق یہ حکم ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک ایڈیشنل سکریٹری نے جاری کیا تھا۔ اگلے ہی دن دونوں الیکشن کمشنروں نے اس معاملے پر کابینہ سکریٹری کو خط لکھا۔ کمیشن نے کہا کہ 30 جولائی کو دونوں کمشنروں کی مشترکہ ہدایت کے بعد یہ حکم نافذ نہیں ہوا۔

فارم 6 میں تبدیلی کے الزامات پر کیا کہا؟

ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 کے بارے میں بھی کمیشن نے وضاحت دی ہے۔ اس نے کہا کہ فارم 6 میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔ اس فارم میں تبدیلی کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ SIR کے لیے استعمال ہونے والا اعلانیہ فارم سے الگ دستاویز ہے۔ تاہم، کمیشن نے تسلیم کیا کہ آن لائن درخواست میں اسے جس انداز سے دکھایا جا رہا تھا، اس سے فارم میں تبدیلی ہونے کا تاثر پیدا ہو سکتا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ اب آن لائن درخواست میں فارم 6 اور اعلانیے کو الگ الگ دکھانے کا انتظام کیا گیا ہے، جیسا کہ کاغذی فارم میں ہوتا ہے۔

ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور ہٹانے پر بھی وضاحت

کمیشن نے بتایا کہ جن ووٹروں کا پرانا ریکارڈ موجودہ فہرست سے نہیں مل پایا ہے، انہیں عام طور پر سماعت کے لیے دفتر بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بوتھ لیول افسر (BLO) ان کے گھر جا کر دستاویزات جمع کریں گے۔ سماعت صرف مخصوص معاملات میں ہوگی اور ترجیح آن لائن سماعت کو دی جائے گی۔ ECINet سسٹم کے حوالے سے کمیشن نے کہا کہ انتخابی رجسٹریشن افسر (ERO) کے حکم کے بغیر ووٹر لسٹ میں نہ کوئی نام شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی نام کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس عمل کی جانچ کے لیے IIT اور IISc کے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے مطالبے پر کمیشن کا جواب

چیف الیکشن کمشنر کے کام کاج پر روک لگانے سے متعلق عرضی پر کمیشن نے کہا کہ اس طرح کے مطالبے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا طریقہ سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہے۔ اس کے علاوہ، کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اس نے اپنی کوئی اندرونی فائل یا نوٹ میڈیا کو جاری نہیں کیا تھا۔ دسہرہ کی تعطیلات کے باعث فی الحال مختصر جواب داخل کیا گیا ہے۔ کمیشن نے اس معاملے میں تفصیلی اور نکات کی بنیاد پر جواب دینے کی اجازت بھی مانگی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read