Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi: آکاشوانی بھون میں 2 گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے راہل گاندھی، بولے- ہمیں کیوں روکا؟

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ شروع کیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب بڑھنے والے اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے بیریکیڈنگ کرکے روک دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور وہاں ترنگا لہرایا۔اس کے بعد پولیس نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دونوں کو حراست میں لے لیا۔ دونوں کو پولیس کی بس میں بٹھایا گیا،

نئی دہلی : انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مارچ نکال رہے ہیں۔ اس دوران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی آکاشوانی بھون میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ دھرنے کے دوران راہل گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ 300 ارکان پارلیمنٹ کو کیوں روکا گیا ہے۔راہل گاندھی نے کہا، ’’پتہ نہیں ارکان پارلیمنٹ کو کیوں روکا گیا۔ الیکشن کمیشن صرف 50 گز کی دوری پر ہے، لیکن ہمیں وہاں جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کو صحیح طریقے سے کرانا ہے۔ 300 ارکان پارلیمنٹ گیانیش کمار سے ملنا چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن عوام کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا تو پھر جمہوریت کا کیا مطلب رہ جائے گا؟‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔ کوئی بچ کر نہیں جائے گا۔ چاہے وہ موہن بھاگوت ہوں، مودی ہوں یا امت شاہ ہوں۔‘‘

2 گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے ہیں راہل گاندھی

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ شروع کیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب بڑھنے والے اپوزیشن رہنماؤں کو پولیس نے بیریکیڈنگ کرکے روک دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور وہاں ترنگا لہرایا۔اس کے بعد پولیس نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دونوں کو حراست میں لے لیا۔ دونوں کو پولیس کی بس میں بٹھایا گیا، تاہم کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے بس کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس کے آگے کھڑے ہوگئے۔بعد میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پولیس بس سے اتر کر آکاشوانی بھون میں داخل ہوگئے۔ دونوں وہاں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر دھرنا دے رہے ہیں۔آکاشوانی بھون میں راہل گاندھی کو بیٹھے ہوئے 2 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کے ساتھ پرینکا گاندھی سمیت انڈیا اتحاد کے دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی احتجاج میں موجود ہیں۔

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج

بتایا گیا ہے کہ انڈیا اتحاد نے 30 ستمبر کو ہونے والی میٹنگ کے بعد 6 اکتوبر کو مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مارچ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے کردار کو لے کر جاری تنازع کے خلاف نکالا گیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور وہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر رہی ہیں۔ اسی مطالبے کے ساتھ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ کا فیصلہ کیا تھا، لیکن پولیس کی جانب سے راستہ روکے جانے کے بعد احتجاج نے دھرنے کی شکل اختیار کرلی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read