Bharat Express DD Free Dish

Electoral Roll

اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے باوجود ڈپلیکیٹ ووٹر کارڈوں کا معاملہ سامنے آگیا، ایک ہی شخص کے نام پر چار الگ الگ ووٹر آئی ڈی کارڈ جاری ہونے اور بعض مقامات پر ایک ہی ووٹر کا نام 10 بار تک درج ہونے کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل تصدیقی نظام اور ووٹر لسٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کا الزام لگایا تھا، جس پر الیکشن کمیشن نے ان کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار میں SIR کے لیے جاری حکم کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوا تھا اور سپریم کورٹ بھی اسے برقرار رکھ چکا ہے، اب اسی معاملے پر کانگریس نے ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

اویسی نے کہا ’’اگر فرضی فارم 7 داخل کیے جا رہے ہیں تو ہم الیکشن کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر یہ ڈراما بند نہیں ہوا تو یاد رکھیں، حیدرآباد کی سڑکوں اور گلیوں میں دہلی کے جنتر منتر سے بھی بڑے احتجاج ہوں گے اور آپ کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔ مجلس اتحاد المسلمین خاموش نہیں رہے گی۔‘‘

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔