اتر پردیش میں خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے تحت 2 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جانے اور حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے باوجود ایک ہی شخص کے نام پر متعدد ووٹر شناختی کارڈ جاری ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کی شکایات اور سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد الیکشن کمیشن نے تکنیکی خامی کا اعتراف کیا ہے۔ اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کو مکمل طور پر شفاف اور درست بنانے کے لیے چلائی گئی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) ختم ہونے کے باوجود فرضی اور دوہرے ووٹروں کا تنازع ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ریاست میں 10 اپریل 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جاچکی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک ہی شخص کے نام پر متعدد ووٹر شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) جاری ہونے کے سنگین معاملات سامنے آرہے ہیں۔ اس معاملے پر اہم اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے الیکشن کمیشن کے تصدیقی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کی شکایت سے معاملہ اٹھا
سماج وادی پارٹی نے 13 اکتوبر 2026 کو اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نودیپ رنوا کو سات صفحات پر مشتمل میمورنڈم سونپ کر اسمبلی کی تقریباً 100 نشستوں پر دھاندلی کا دعویٰ کیا۔ ایس پی کا الزام ہے کہ جانچ کے دوران کئی پولنگ بوتھوں پر ایک ہی ووٹر کا نام دو، تین اور بعض مقامات پر 10 مرتبہ تک درج پایا گیا۔ اس کے فوراً بعد 17 اکتوبر کو فیکٹ چیکر محمد زبیر نے سوشل میڈیا پر ایک ہی شخص کے نام پر چار الگ الگ ووٹر کارڈ بننے کا معاملہ اجاگر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی شہری ایک سے زیادہ مرتبہ فارم 6 بھرتا ہے تو الیکشن کمیشن کا ڈیجیٹل نظام ابتدائی مرحلے میں ہی ان درخواستوں کو مسترد کیوں نہیں کر پاتا؟
الیکشن کمیشن نے تسلیم کی تکنیکی خامی
ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے تسلیم کیا گیا کہ ایک شخص کی جانب سے بار بار درخواستیں جمع کرانے پر الگ الگ ای پی آئی سی نمبر جاری ہونے کا مسئلہ کافی عرصے سے موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ وہ ای سی آئی نیٹ (ECINET) نظام کے ذریعے وقتاً فوقتاً اس طرح کے دوہرے اندراجات کی جانچ کرتا ہے۔ کمیشن اب ایسی نئی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جو درخواست جمع کراتے وقت ہی ایک سے زیادہ فارم کی نشاندہی کرسکے۔
دو کروڑ سے زیادہ نام حذف، پھر بھی سوال برقرار
رپورٹ کے مطابق، ایس آئی آر مہم کے دوران مجموعی طور پر 2.04 کروڑ سے زیادہ فرضی یا فوت شدہ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے تھے، جبکہ حتمی فہرست میں 13.39 کروڑ ووٹر درج ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ کی صفائی کے بعد بھی ایک ہی شخص کے نام پر متعدد اندراجات کا سامنے آنا انتخابی نظام اور تصدیقی طریقہ کار پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


