UP SIR: یوپی میں ایس آئی آر کے بعد بھی ایک ووٹر کے نام پر چار چار ووٹر کارڈ! کیسے بن رہے ڈپلیکیٹ کارڈ؟
اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے باوجود ڈپلیکیٹ ووٹر کارڈوں کا معاملہ سامنے آگیا، ایک ہی شخص کے نام پر چار الگ الگ ووٹر آئی ڈی کارڈ جاری ہونے اور بعض مقامات پر ایک ہی ووٹر کا نام 10 بار تک درج ہونے کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل تصدیقی نظام اور ووٹر لسٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔
UP SIR claims and objections time extended: یوپی میں ایس آئی آر کی تاریخ ایک ماہ بڑھا دی گئی ہے، اب 6 مارچ تک نام شامل کرائے جا سکیں گے، جبکہ حتمی فہرست 10 اپریل کو ہوگی جاری
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے تحت دعووں اور اعتراضات کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ حتمی فہرست 10 اپریل کو جاری کی جائے گی۔
BJP is on a mission to make fake votes: ’’بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر ہے‘‘ ایس آئی آر کے دوران 2 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے نام خارج ہونے پر اکھلیش یادو کا سخت ردعمل
ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔





