Bharat Express DD Free Dish

BJP is on a mission to make fake votes: ’’بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر ہے‘‘ ایس آئی آر کے دوران 2 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے نام خارج ہونے پر اکھلیش یادو کا سخت ردعمل

ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے اترپردیش میں خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن–SIR) کے دوران 2 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کے بعد بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔

عوام سے ووٹر لسٹ جانچنے کی اپیل

جمعرات کو لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بوتھ لیول پر جا کر اپنے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ضرور چیک کریں تاکہ ان کے ووٹ پر کوئی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا: ’’عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے ووٹ کی حفاظت کریں اور بی جے پی کے جھوٹے بیانیے میں نہ پھنسیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی لیڈر خود ایس آئی آر کو لے کر پریشان ہیں۔ وہ ووٹروں کی تعداد بڑھانے کی بات کر رہے ہیں اور انتظامی افسران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘‘

جعلی ووٹوں پر ایف آئی آر کی وارننگ

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ اگر بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کی کوشش کرتی ہے تو سماج وادی پارٹی کے کارکن، جنہیں انہوں نے ’پی ڈی اے پرہری‘ قرار دیا، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا: ’’اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کٹنے کے بعد پوری بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر ہے۔ خود وزیراعلیٰ افسران کو ووٹ بڑھانے کی ہدایت دے رہے ہیں۔‘‘

الیکشن کمیشن کا موقف

منگل کو اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نویدیپ رنوا نے ایس آئی آر کے اینومریشن مرحلے کی تکمیل کے بعد ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق:

تقریباً 12 کروڑ 55 لاکھ اینومریشن فارم موصول ہوئے

46.23 لاکھ ووٹرز فوت ہو چکے ہیں

2.17 کروڑ ووٹرز نقل مکانی کر چکے ہیں یا پتے پر دستیاب نہیں ملے

25.47 لاکھ ووٹرز کے نام ایک سے زائد مقامات پر درج تھے

ان تمام وجوہات کی بنا پر مجموعی طور پر 2 کروڑ 89 لاکھ نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔

دعوؤں اور اعتراضات کی مدت

چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق ووٹر لسٹ سے متعلق دعویٰ اور اعتراضات کی مدت 6 جنوری 2026 سے 6 فروری 2026 تک مقرر کی گئی ہے۔ اس دوران اہل ووٹروں کے اندراج، نااہل ووٹروں کے نام خارج کرنے سے متعلق درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ ریاست میں 403 الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ERO) اور 2042 اسسٹنٹ EROs ان معاملات کی جانچ کریں گے، جبکہ ضرورت کے مطابق اضافی افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

سیاسی تنازع میں شدت

ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read