Bharat Express DD Free Dish

opposition attack

لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر التوا کی تحریک (Adjournment Motion) پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے ایوان میں جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ سپولوں کا جھنڈ جمع کرکے انہیں دودھ پلائے گی تو وہ صرف اپوزیشن کو ہی ڈسیں گے۔ آپ کی باری بھی آئے گی، کیونکہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔ آج اگر ہماری باری ہے، کل آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘

کیرتی آزاد نے پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے 29 ارکان پارلیمان ’’ماں، ماٹی، مانش‘‘ کے نام پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان غداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی شکایت تھی تو انتخابات سے پہلے کیوں نہیں بولے؟

حالیہ اضافے سے قبل 15 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 3 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 19 مئی کو 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، جبکہ 23 مئی کو پٹرول 87 پیسے اور ڈیزل 91 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک ’’معاشی طوفان‘‘ آنے والا ہے، جس کے نتیجے میں شدید مہنگائی ہوگی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی اور کھاد کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کا معاشی نظام فروخت کر دیا ہے۔ اب جو معاشی بحران آنے والا ہے، اس سے حکومت عوام کو نہیں بچا سکے گی۔‘‘

یہ تنازع اس مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا جس میں کرن رجیجو نے مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت کا موازنہ پارسی برادری سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن سکتی ہے، جبکہ پارسیوں کی تعداد محض تقریباً 53 ہزار ہے۔

اس معاملے پر انڈین یوتھ کانگریس نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک یوتھ کانگریس 21 مئی کو بنگلورو میں ’’راج بھون چلو‘‘ مارچ نکالے گی، جس میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس تنازع کے بعد اعلان کیا ہے کہ اگلے سال سے این ای ای ٹی-یو جی امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں کرایا جائے گا، جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔